بھارت

چین نے مغربی ہمالیہ میں اس کے 38 ہزار مربع کلومیٹر پر قبضہ کر رکھا ہے، بھارت

نئی دہلی (عکس آن لائن)بھارت نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات سرحدی تنازع کے بعد بیچ چوراہے پر ہیں۔ بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے بھارتـچین تعلقات کے موضوع پر ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں میں امن کی بنیاد دیگر شعبوں میں تعلقات کی بہتری پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو حالات ہوئے اس کے اثرات بھی ہوں گے جو صرف دونوں ممالک کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہوں گے۔جے شنکر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ دہائیوں میں بہتری کی رفتار سست رہی ہے اور چین، بھارت کا سب سے بڑا کاروباری شراکت دار بن گیا تھا۔چین اور بھارت کے درمیان تجارت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، منصوبوں میں شراکت داری اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے ساتھ ساتھ سیاحت اور تعلیم میں ایک دوسرے کے شراکت دار رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو چین کے مؤقف میں واضح تبدیلی کا انتظار ہے یا سرحد پر فوجیوں کی تعیناتی کی وجوہات درکا ہیں۔بھارتی وزیر خارجہ نے بتایا کہ یہ ایک الگ معاملہ ہے کہ ہماری فورسز اپنے دفاع میں جوابی وار کر رہی ہیں اور اس سے انہیں سخت چیلنج کا سامنا ہے۔دوسری جانب چین سے اس بیان کے جواب میں کوئی ردعمل نہیں آیا۔خیال رہے کہ بھارت اور چین کی سرحدیں ہمالیہ سے ملتی ہیں اور دونوں ممالک میں طویل عرصے سے سرحدی تنازع جاری ہے، دونوں ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔چین، بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں 90 ہزار مربع کلومیٹر کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ چین نے مغربی ہمالیہ میں اس کے 38 ہزار مربع کلومیٹر پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس سرحدی تنازع پر دونوں ممالک کے متعلقہ حکام درجنوں ملاقاتیں کرچکے ہیں لیکن اس کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔دونوں ممالک کے درمیان5 مئی 2020 کو مشرقی لداخ میں خطرناک تصادم ہوا تھا جس کے بعد 9 مئی کو دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان تصادم ہوا تھا جس کے نتیجے میں متعدد فوجی زخمی ہوئے تھے۔بعد ازاں جون میں دونوں فوجوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں 20 بھارتی فوجیوں کے ساتھ ساتھ نامعلوم تعداد میں چینی فوجی بھی مارے گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں