اردن

اردن کا ایران سے وابستہ ملیشیائوں کے سرحدی حملوں پر احتجاج

عمان (عکس آن لائن)شاہ عبداللہ دوم نے ایران سے وابستہ ملیشیائوں کے اردن کی سرحد پر حملوں پراحتجاج کیا ہے اور شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں منشیات کے اسمگلروں کی سکیورٹی فورسز سے مہلک جھڑپوں کے بعد ایران سے اپنی گماشتہ مسلح تنظیموں کی سرپرستی ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق انھوں نے انٹرویو میں کہا کہ اردن کو ایران سے وابستہ ملیشیائوں کی جانب سے اپنی سرحدوں پر باقاعدگی سے حملوں کا سامنا ہے۔انھوں نے ایران سے طرزِعمل میں تبدیلیکا مطالبہ کیا اور کہا کہ اردن خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا۔شاہ عبداللہ نے کہا کہ اردن باقی عرب ممالک کی طرح ایران کے ساتھ باہمی احترام، اچھی ہمسایگی، دیگر ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور ان کے معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پرمبنی بہترتعلقات کا خواہاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگرعرب ممالک کی طرح اردن کو بھی منشیات اوراسلحہ کے اسمگلروں نے نشانہ بنایا ہے کیونکہ وہ یورپ کی راہداری میں واقع ہیں۔اردن ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنے بھائیوں(عرب ممالک)کے ساتھ رابطے قائم کررہا ہے۔اردنی فوج شام کے ساتھ سرحد پراسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں کرتی رہتی ہے جہاں ایران کے حمایت یافتہ جنگجو 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی میں دمشق حکومت کی حمایت میں موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں