میاں زاہد حسین

گیس کی قیمت میں اضافے سے مہنگائی بڑھ رہی ہے،میاں زاہد حسین

کراچی (عکس آن لائن) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ مہنگائی میں اضافہ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ گزشتہ ماہ مجموعی افراط زر 2.7 فیصد کے اضافے کے ساتھ 29.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ ماہ اشیائے خورد ونوش کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے جبکہ دیگر بہت ساری اشیاء کی قیمت میں کمی آئی ہے۔ مہنگائی کی بڑی وجہ گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہے۔ گیس کی قیمتوں میں 194 فیصد اضافے کی وجہ سے اگلے مالی سال میں افراط زر 25 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے جس میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔

میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ماہرین کا خیال تھا کہ مرکزی بینک شرح سود جلد کم کر دے گا مگر مہنگائی کے اعداد و شمار جاری ہونے کے بعد یہ مشکل لگتا ہے اور اب یہ اندیشہ ہے کہ مرکزی بینک مانیٹری پالیسی میں کوئی نرمی نہیں کرے گا۔ گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے لمبے عرصے کے بعد شہری علاقوں میں مہنگائی دیہی علاقوں سیزیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ گیس مہنگی ہونے سے دیہی علاقوں کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتاہے مگر شہری علاقے متاثر ہوتے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کچھ کمی آئی ہے جو خوش آئند ہے۔

میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ اگر روپے کی قدر کم ہوتی ہے تو مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہو جائے گا۔ کئی مغربی اداروں نے2024 کے آخر تک ڈالر کی قدر 350 روپے تک پہنچنے کا اندازہ لگایا ہے جو تشویشناک ہے۔ کرنسی مارکیٹ پر بڑی مشکل سے قابو پایا گیا ہے اور اگر سٹے بازوں پر سخت نظر نہ رکھی گئی تو وہ اپنے مذموم مفادات کے لئے دوبارہ پرانا کھیل کھیلنا شروع کر دینگے۔ حکومت کو چائیے کہ جلد از جلد آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کے حصول کے لیے شروعات کرے، ترسیلات میں اضافہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے اور بجٹ خسارے کو قابو میں لانے کے لیے اقدامات کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں