باغبان

باغبان پھل کو کیڑے سے بچانے کیلئے فوری تدارکی اقدامات کریں ، ماہرین زراعت

فیصل آباد (عکس آن لائن) فروٹ فلائی کا حملہ ترشاوہ پھلوں کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے لہٰذا باغبان پھل کو کیرے سے بچانے کیلئے فوری تدارکی اقدامات کریں تاکہ انہیں معاشی لحاظ سے نقصان نہ اٹھانا پڑے ۔

ماہرین زراعت نے کہاکہ دنیا میں تقریباََ 24 اقسام کی پھل کی مکھیاں موجود ہیں جن میں 7اقسام پاکستان میں پائی جاتی ہیں اور کیڑوں کے ماہرین اور پھل درآمد کرنے والوں دونوں کو پھل کی مکھی کے نقصان کا سامنا ہے ۔انہوں نے بتایاکہ اس کیڑے کے بارے میں باغبان حضرات کو آگاہ کرنا ضروری ہے ۔انہوں نے بتایاکہ پھل کی مکھی کی جسامت عام گھریلو مکھی جتنی اور اس کی رنگت سرخی مائل بھوری ہوتی ہے۔مکھی کے دھڑ پر لمبائی پردو پیلے رنگ کی دھاریاں اوریہ سنڈیاں ٹانگوں کے بغیرہوتی ہیں جن کا رنگ ہلکا پیلا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ مادہ مکھی اپنے انڈے دینے والی سوئی پھل میں چبھو کر ایک وقت میں چھلکے کے نیچے 3سے 4 انڈے دیتی ہے جن سے موسم گرما میں دو تا چار دن اور موسم سرما میں چار تا آٹھ دن میں سنڈیاں نکل آتی ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ سردیوں میں مکھی 27سے44دن تک زندہ رہتی ہے۔انہوں نے بتایاکہ ماضی میں پھل کی مکھیوں کا کنٹرول زہروں کے استعمال سے کیا جاتا رہا ہے اس سے ماحول دوست کیڑوں کے نقصان کے علاوہ ماحول میں بھی خرابی پیدا ہو جاتی ہے اسلئے پھل کی مکھی کو سپرے کے ذریعے کنٹرول کرنا کافی مشکل ہے کیونکہ یہ اپنے قدرتی ماحول میں چھپنے کی اہلیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہاکہ باغبان پھل کی مکھی کے کیمیائی تدراک کیلئے ٹریسر یا ریڈینٹ 20ملی لٹر فی 100لٹر پانی اورنباتاتی تیل نیم آئل2ملی لٹر فی لٹر پانی کا استعمال کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں