پاکستان

پاکستان کی بھارت سمیت دوستانہ ہمسائیگی کی پالیسی واضح ہے،پاکستان

اسلام آباد (عکس آن لائن) پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے پاکستان کی بھارت سمیت دوستانہ ہمسائیگی کی پالیسی واضح ہے،مقبوضہ کشمیر میں سات دہائیوں سے کشمیری بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں،صحافیوں ، سول سوسائٹی سمیت ظلم کے خلاف بولنے والی آوازیں جبر سے خاموش کرائی جا رہی ہیں، عالمی برادری بھارت کو ان مظالم کے خلاف جواب دہی کرے،قومی سلامتی کا افغانستان کا دورہ اہم تھا،دورے کو موسم کی خرابی کے باعث ملتوی کیا گیا،جلد نئی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ابوظہبی میں حوثی دہشت گرد حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم نے ابوظہبی کے ولی عہد سے ٹیلیفون پر بات کی،وزیر خارجہ نے بھی اماراتی ہم منصب سے بات کی۔ انہوںنے کہاکہ دونوں رہنماؤں نے حوثی حملوں کی مذمت کی،وزیر اعظم نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے 16 جنوری کو ٹیلیفونک رابطہ کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ سی پیک میں کویڈ کے باوجود اہم پیش رفت جاری ہیں،27 پراجیکٹس پر کام جاری ہے۔ انہوںنے کہاکہ انفراسٹرکچر منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے، سی پیک میں کچھ نئے منصوبوں کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ سی پیک کے حوالے سے منفی پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ افغانستان میں گندم بھیجنے کے لئے بھارتی حکمومت کو پاکستان کی پیشکش سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ تین ہفتوں سے بھارت کے جواب کے منتظر ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری ہے،مقبوضہ کشمیر میں سات دہائیوں سے کشمیری بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں،پاکستان کشمیر میں بڑھتے مظالم کی مذمت کرتا ہے۔

انہوںنے کہاکہ صحافیوں ، سول سوسائٹی سمیت ظلم کے خلاف بولنے والی آوازیں جبر سے خاموش کرائی جا رہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ سے مطالبہ ہے کہ بھارت کو ان مظالم کے خلاف جواب دہی کرے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کی بھارت سمیت دوستانہ ہمسائیگی کی پالیسی واضح ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کا رویہ خاص طور پر گذشتہ چند سالوں سے انتہائی منفی رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات اور ماحول کی بہتری چاہتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ بھارت کا رویہ اور ماحول اس حوالے سے درست نہیں۔انہوںنے کہاکہ مشیر قومی سلامتی کا افغانستان کا دورہ اہم تھا،دورے کو موسم کی خرابی کے باعث ملتوی کیا گیا،جلد نئی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ زلفی بخاری نے اومانی حکام سے ملاقات ذاتی حیثیت میں کی،زلفی بخاری نے اومان میں مقیم پاکستانیوں کی ویلفئیر کے حوالے سے اومانی حکام کا شکریہ ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں