چینی میڈ یا

امریکہ عالمی وبا کے خلاف خود بے بس اور ناکام ہے، چینی میڈ یا

واشنگٹن (عکس آن لائن) 8 جنوری سے ، چین نے کووڈ وائرس انفیکشن کو “کلاس بی مینجمنٹ ” کی فہرست میں شامل کیا ہےاور ملک میں داخل ہونے والے لوگوں اور سامان کے لئے قرنطینہ کے اقدامات کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چینی شہریوں کی سرحد پار سیاحت بھی منظم انداز میں دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔

اس دن کے لیے چین تین سال سے تیاری کر رہا ہے۔ انسداد وبا کی سخت جدوجہد کے بعد ، چین نے صورتحال کے مطابق اپنی انسدادی پالیسیوں کو ایڈجسٹ کیا ہے ، جو انسداد وبا اور معاشی و معاشرتی ترقی کو بہتر طور پر ہم آہنگ کرنے کے لئے سازگار ہے ، اور چینی اور غیر ملکی لوگوں کےسفری تبادلے میں بھی سہولت فراہم کرتی ہے۔ بلومبرگ نے تبصرہ کیا کہ “چین سے زیادہ آسان رسائی دنیا بھر کے بہت سے ممالک کو فائدہ پہنچائے گی جو چینی سیاحوں پر انحصار کرتے ہیں”۔ بہت سے بین الاقوامی سطح پر معروف اقتصادی اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ چین کی معیشت کی بحالی میں تیزی آنے کی توقع ہے، جو عالمی معیشت کے لئے اچھی خبر ہے.”

تاہم، امریکہ کی جانب سے عجیب و غریب بات ایک بار پھر سامنے آئی ہے – کچھ امریکی سیاستدان اور میڈیا ،جو پہلے “چین کو انسدادی اقدامات ختم کرنے” کے لئے شور مچا رہے تھے، انھوں نے یہ کہتے ہوئے کہ چین ابھی اس حوالے سے’ تیار’ نہیں ہے، چین کی انسداد وبا کی پالیسی ایڈجسٹمنٹ پر حملہ کرنے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کر دیا ہے، اور چینی سیاحوں پر داخلے کی پابندی عائد کردی ہے. یہ منافقانہ دوہرے معیار کا انداز چین کی انسداد وبا کی کامیابیوں کے بارے میں “حسد اور نفرت” کی ان کی تاریک نفسیات کو بے نقاب کرتا ہے۔

اس وقت امریکہ میں طرح طرح کے وائرس کا پھیلاو ہو رہا ہے اور لوگ اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ وہ امریکی سیاست دان اپنے فرائض سے غفلت برتنے پر غور نہیں کرتے بلکہ چین کے انسداد وبا کے نتائج کو داغدار کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور وبا کو سیاسی رنگ دیتے رہتے ہیں۔
8 جنوری چین اور دنیا کے لیے ایک نیا آغاز ہے اور دنیا بھر کے ممالک نے چین کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔ وہ امریکی سیاست دان جن کا اس وبا سے لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور دوسروں کو بد نام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، ضرور ناکامی سے دو چار ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں