چینی صدر

چینی اور امر یکی صدور کے ما بین ٹیلی فو نک گفتگو، مشترکہ تشویش کے مسائل پر تبادلہ خیال

بیجنگ (عکس آن لائن) چین کے صدر شی جن پھنگ نے درخواست پر امریکی صدر جو بائیڈن سے فون پر گفتگو کی ہے جس میں دونوں سربراہان مملکت نے چین امریکہ تعلقات اور مشترکہ تشویش کے مسائل پر کھل کر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔بد ھ کے روز چینی میڈ یا گروپ کے مطا بق شی جن پھنگ نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران چین امریکہ تعلقات میں استحکام آیا ہےلیکن ساتھ ہی دونوں ممالک کے تعلقات میں منفی عوامل میں بھی اضافہ ہوا ہے جن پر فریقین کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ تزویراتی ادراک ہمیشہ سے چین امریکہ تعلقات میں پہلا مسئلہ رہا ہےجبکہ تائیوان کا مسئلہ چین امریکہ تعلقات میں پہلی سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ امریکہ صدر بائیڈن کے اس مثبت بیان کو عملی جامہ پہنائے گا کہ وہ “تائیوان کی علیحدگی” کی حمایت نہیں کرتا۔شی جن پھنگ نے کہا کہ چین کے خلاف معاشی، تجارتی اور تکنیکی دباؤ کے امریکی اقدامات اور چینی کمپنیوں کے خلاف امریکی پابندیوں کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے۔

جو “خطرے کو کم کرنے” کی بجائے خطرہ پیدا کرنا ہے اور چین کی ہائی ٹیک ترقی کے حوالے سے امریکی رویہ برقرار رہا تو چین خاموش نہیں بیٹھے گا ۔چینی صدر نے چین امریکہ تعلقات میں کئی اہم اصولوں کے ساتھ ساتھ ہانگ کانگ، انسانی حقوق اور بحیرہ جنوبی چین سے متعلق امور پر چین کے موقف کی وضاحت کی۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ ‘نئی سرد جنگ’ اور چین کے نظام کو تبدیل نہیں کرنا چاہتا نہ ہی اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کر کے چین کی مخالفت چاہتا ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ’تائیوان کی علحیدگی’ کی حمایت نہیں کرتا اور چین کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ون چائنا پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ چین کی ترقی دنیا کے لئے فائدہ مند ہے، اور امریکہ چین کی ترقی کو روکنے یا چین سے “ڈی کپلنگ” کی کوشش نہیں کرتا. دونوں سربراہان مملکت نے یوکرین کے بحران اور جزیرہ نما کوریا کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نےاتفاق کیا کہ مواصلات کو برقرار رکھاجائے، سفارتی، اقتصادی، مالیاتی اور تجارتی شعبوں میں مشاورتی میکانزم اور دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان مواصلات کو فروغ دیا جائے، انسداد منشیات، مصنوعی ذہانت اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں بات چیت اور تعاون کو آگے بڑھایا جائے، دونوں ممالک کے درمیان عوامی اور ثقافتی تبادلوں کو وسعت دینے کے لئے مزید اقدامات کیے جائیں اور بین الاقوامی اور علاقائی امور پر روابط کو مضبوط بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں