چین

دورہ چین” کا نیا دور تین گہری حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہے، چینی میڈ یا

بیجنگ (عکس آن لائن) غیر ملکی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے “دورہ چین” کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔صرف مارچ میں چین نے یکے بعد دیگرے انگولا، ڈومینیکا، ناؤ رو، سری لنکا، نیدرلینڈز اور قازقستان کے رہنماؤں کا خیرمقدم کیا۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی پر نظر ڈالیں تو 15 غیر ملکی رہنماؤں نے چین کا دورہ کیا۔یہاں تک کہ انڈونیشیا کے نومنتخب صدر پربوا سوبیانتو نے اپنی سرکاری حلف برداری سے قبل چین کا دورہ کر کے روایت کو توڑ ا ہے۔ مختلف ممالک کے بزنس ایگزیکٹوز بھی چین آئے۔ وہ دورہ کرنے، میڈیا کو انٹرویو دینے،بڑی کانفرنسوں کے مقامات کے درمیان سفر کرنے اور کانفرنس کے دوران آپس میں تعاون پر تبادلہ خیال کرنے اور کاروباری مواقع تلاش کرنے میں مصروف رہے ۔ چائنا ڈیولپمنٹ فورم (سی ڈی ایف) 2024 کے سالانہ اجلاس میں فورچیون 500 کمپنیوں کے 110 سے زائد سربراہان، بین الاقوامی تنظیموں کے سینئر حکام اور غیر ملکی اسکالرز نے شرکت کی۔ حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے بوآؤ فورم فار ایشیا نے دنیا بھر کے 60 سے زائد ممالک اور علاقوں سے سیاسی، کاروباری اور تھنک ٹینک اسکالرز کے تقریبا 2،000 نمائندوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

چین نے واضح پالیسی سگنل جاری کیا ہے جس نے دنیا بھر کے مہمانوں کو گہری حقیقتوں کا احساس دلایا ہے۔
سب سے پہلے، چین کے کھلے پن کے دروازے وسیع سے وسیع تر ہوتے جا رہے ہیں۔ 27 مارچ کو ، امریکی کاروباری برادری اور اسٹریٹجک اکیڈمک سرکل کے نمائندوں سے ملاقات کے موقع پر ،چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین کا کھلاپن نہیں رکے گا بلکہ چین اصلاحات کو جامع طور پر گہرا کرنے کے لئے بڑے اقدامات کے ایک سلسلے کی منصوبہ بندی اور نفاذ کر رہا ہے تاکہ دنیا بھر کے کاروباری اداروں کے لئے وسیع تر ترقیاتی مواقع فراہم کئے جائیں۔ چین اپنے ٹھوس اقدامات کے ذریعے دنیا کو “یقین دہانی” کر وارہا ہے۔

ان اقدامات میں ، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر پابندیوں کا مکمل خاتمہ، انٹرنیٹ ڈیٹا سینٹرز جیسی ویلیو ایڈڈ ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کا آزمائشی آغاز، اعلی معیار کے کھلے پن اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے فروغ کے ایکشن پلان کا اجراء، اور متعدد ممالک کے لئے ویزا فری پالیسی اور چین میں کام کرنے، تعلیم حاصل کرنے اور سفر کرنے کے لئے غیر ملکیوں کو دی جانے والی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے پالیسیوں کا نفاذ وغیرہ شامل ہیں ۔
چین کی جانب سے نئی شہرکاری اور صنعت کاری کو فروغ دینے سے ترقی کی زبردست اور محرک قوت پیدا ہوگی۔

اعداد و شمار کے مطابق، چین کی شہرکاری کی شرح میں ہر ایک فیصد پوائنٹ کا اضافہ تقریباً ایک ٹریلین یوآن کی نئی سرمایہ کاری کی طلب اور 200 ارب یوآن سے زیادہ کھپت کی نئی طلب کو فروغ دے سکتا ہے۔ چین کاربن کے اخراج کے کنٹرول کے لئے 2030 تک کم از کم سالانہ 2 ٹریلین یوآن کی سرمایہ کاری کا اضافہ کرے گا اور صنعت، زراعت اور تعمیرات سمیت سات بڑے شعبوں میں آلات کی تجدید کو فروغ دینے سے سالانہ 5 ٹریلین یوآن سے زیادہ کی ایک بڑی مارکیٹ کی تشکیل کی توقع ہے. چائنا ڈیولپمنٹ فورم میں شریک جرمن صنعتی ادارے تھیسن کرپ اے جی کے چیئرمین اور سی ای او میگوئل لوپیز نے کہا کہ چین ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے بہت کھلا ہے،ان کو یکساں مواقع فراہم کرتا ہے اور خاطر خواہ مراعات دیتا ہے جو کہ بہت مثبت بات ہے۔

چین کی وزارت تجارت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے دو ماہ کے دوران چین میں 7 ہزار 160 نئے غیر ملکی سرمایہ کاری کے ادارے قائم ہوئے ہیں جو سال بہ سال 34.9 فیصد اضافے کے ساتھ گزشتہ پانچ سال میں بلند ترین معیار ہے۔
دوسرا یہ کہ “ڈی کپلنگ” غیر مقبول ہے، اور کھلاپن اور تعاون ہی واحد انتخاب ہے۔ غیرملکی رہنماؤں کے دورے دوستی کا پیغام دیتے ہیں، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب دنیا صدی کی تیز ترین تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ انڈونیشیا کے نومنتخب صدر پربوا سوبیانتو نے اپنے دورے میں صدر شی جن پھنگ کے ساتھ اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ انڈونیشیا کی نئی حکومت چین کے بارے میں اپنی دوستانہ پالیسی کو جاری رکھنے، دونوں ممالک کی ترقیاتی حکمت عملیوں کے درمیان فعال طور پر ہم آہنگی ، دوطرفہ تعلقات کی زیادہ جامع اور اعلی معیار کی ترقی کے فروغ اور جنوب-جنوب تعاون میں زیادہ سے زیادہ خدمات سرانجام دینے کی خواہش مند ہے۔

ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹے نے اپنے دورہ چین کے دوران یہ واضح کیا کہ “ڈی کپلنگ ” نیدرلینڈز کی حکومت کے لئے آپشن نہیں ہے ، اور نیدرلینڈز اس بات کو یقینی بنائے گا کہ برآمدی کنٹرول کے اقدامات کسی مخصوص ملک کے خلاف نہ ہوں اور برآمدی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کی پوری کوشش کی جائے۔ چین کی ہمہ جہت ترقی کی صلاحیت اور لچک نے مغربی رہنماؤں کو آہستہ آہستہ یہ سمجھادیا ہے کہ تجارتی ، مالیاتی اور ٹیکنالوجی کی جنگیں چین پر دباؤ نہیں ڈال سکتی اور نہ ہی یوں کسی بنیادی مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ وہ تمام اقدامات جو چین کے ترقیاتی مفادات کو نقصان پہنچا نے کے لیے اٹھائے جائیں گے ان کا نقصان خود ان اقدامات کرنے والوں کو ہو گا اور وہ یہ سب کچھ کر کے بھی صرف ایک مضبوط تر چین کو دیکھیں گے.

تیسرا یہ کہ زندگی کی قوت سے بھرے چین نے دنیا کو اختراعی، سرسبز اور اشتراک پر مبنی مشترکہ مستقبل دکھایا ہے۔ چین کی نئی معیاری پیداواری قوتوں کی بھرپور ترقی لامحدود نئے مواقعوں کو جنم دے رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہائی ٹیک صنعتوں میں چین کی سرمایہ کاری نے کئی سالوں سے ڈبل ڈیجٹ کی ترقی کو برقرار رکھا ہے۔ چین نے گرین انفراسٹرکچر، گرین انرجی اور گرین لائف کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر ترقی کی ہے، اور سرمایہ کاری اور کھپت کی مارکیٹ ہر سال 10 ٹریلین یوآن تک پہنچ جائے گی.

حال ہی میں ، ایپل نے چین کے شہر شن زن اور شنگھائی میں نئی اپلائیڈ ریسرچ لیبارٹریوں کےقیام کا اعلان کیا ہے ، ایسٹرا زینیکا نے ادویات کی ایک نئی جدید فیکٹری کے قیام کا اعلان کیا ہے ، اور متعدد ملٹی نیشنل آٹو کمپنیز نے بھی چین میں آر اینڈ ڈی مراکز قائم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیاہے … بلومبرگ کے چیئرمین مارک کارنی نے کہا ہےکہ چین ابھرتی ہوئی صنعتوں، خاص طور پر آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے میں رہنما ہے۔ چین مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے اطلاق اور تعیناتی کے لحاظ سے بھی منفرد اور رہنما ملک ہے۔ ہم سب اس سے سیکھ سکتے ہیں اور مل کر کام کر سکتے ہیں۔
سو یہ حقیقت ہے کہ موسم بہار کے پھولوں کی خوشبو کے ساتھ چین کی ترقی کو دنیا بھر سے “اعتماد کے ووٹ” مل رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں