فیصل آباد (عکس آن لائن) ماہرین زراعت نے کماد کی فصل مکمل پکنے پر اس کی کٹائی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ کماد کی فصل کاشتکار کی معاشی ترقی میں بہت اہمیت کی حامل ہے جبکہ اس کی کاشت کا بنیادی مقصد چینی اور گڑکا حصول ہے نیز کماد کی فصل سے فی ایکڑ زیادہ گنے اور چینی کا حصول اس کی بروقت کٹائی و پیلائی کے مختلف عوامل پر ہے۔
انہوں نے کاشتکاروں کو سفارش کی کہ کماد کی کٹائی کا وقت بہت اہمیت کا حامل ہے لہٰذا فصل مکمل پکنے پراس کی کٹائی شروع کریں تاکہ چینی کی یافت زیادہ حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہاکہ فصل کی کٹائی وقت سے پہلے شروع کرنے سے نہ صرف گنے کا وزن کم رہتا ہے بلکہ چینی وشکر کی مقدار بھی پوری نہیں ملتی اسی طرح فصل پکنے کے بعد کٹائی میں تاخیر بھی پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کماد کے کاشتکار سب سے پہلے مونڈھی فصل کو کاٹیں کیونکہ یہ سب سے پہلے تیار ہوتی ہے اور اس کی پیداوار بھی زیادہ ہوتی ہے اسی طرح ستمبر کاشتہ فصل کو بہاریہ فصل سے پہلے کاٹیں کیونکہ یہ بہاریہ فصل سے پہلے پک کر تیارہوتی ہے اور اس سے چینی بھی زیادہ حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ کماد کے کاشتکار لیراکاشتہ فصل کوسب سے آخر میں کاٹیں اور اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ پہلے اگیتی ، اس کے بعد درمیانی اور آخر میں پچھیتی پکنے والی اقسام کی کٹائی کریں۔
انہوں نے کہاکہ اگیتی پکنے والی اقسام پیلائی میں زیادہ یافت دیتی ہیں لیکن اگر ان کو آخر سیزن میں کاٹا جائے تو ان کے وزن میں خاطر خواہ کمی آجاتی ہے اور گنے کی زیادہ تر پچھیتی اقسام جنوری کے مہینے میں پک کر تیار ہوجاتی ہیں لہٰذا ان کو جنوری کے بعد کاٹیں تاکہ ان کی بڑھوتری کا عمل مکمل ہونے کے ساتھ چینی کی ریکوری بھی پوری ہوجائے ۔
انہوں نے کہاکہ کماد کی فصل کی اچھی قیمت وصول کرنے کیلئے ضروری ہے کہ فصل کو زمین کے برابر کاٹیں، گنوں سے کھوری اور جڑیں بالکل صاف کرلیں۔ انہوں نے کہاکہ چھیلائی کے دوران آغ اتارنے کے ساتھ دوتین کچی پوریاں بھی اتار لیں ۔ علاوہ ازیں فصل کاٹنے کے بعد گنا جلد ازجلد مل کو سپلائی کردیں تاکہ فصل کے وزن اور ریکوری میں کمی نہ ہوسکے۔