لیتھیم

چین کے “تازہ نئے تین نمایاں برآمدی شعبے” عالمی منڈی میں تیزی سے ابھرنے لگے

بیجنگ (نیوز ڈیسک)حالیہ چند برسوں میں برقی مسافر گاڑیاں، لیتھیم بیٹریاں اور شمسی بیٹریاں چین کی برآمدات کے ” نئے تین نمایاں شعبے” قرار دیے جاتے تھے، تاہم رواں سال کی پہلی ششماہی میں روبوٹس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات پر مشتمل ” تازہ نئے تین نمایاں شعبے” مستقبل کی صنعتوں کی علامت بن کر چین کی غیر ملکی تجارت کی نئی شناخت کے طور پر ابھر رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے تیسرے ہفتے کے دوران چین کے لارج اے آئی ماڈلز کے ہفتہ وار مجموعی استعمال کا پیمانہ 36.11 ٹریلین ٹوکنز تک پہنچ گیا، جس کے ساتھ چین مسلسل بارہویں ہفتے بھی اس شعبے میں دنیا میں پہلے نمبر پر برقرار رہا۔رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین سے برآمد کیے جانے والے روبوٹس کی رسائی 141 ممالک اور خطوں تک پھیل چکی ہے۔ اس دوران سرجیکل روبوٹس کی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.3 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ان کی برآمدی منڈیوں کی تعداد 23 سے بڑھ کر 49 ہو گئی۔

اسی عرصے میں چین کی نیشنل میڈیکل پراڈکٹس ایڈمنسٹریشن نے 38 نئی فرسٹ کلاس اختراعی ادویات کی منظوری دی، جن میں سے 11 ایسی ادویات ہیں جو نئے اہدافی علاج پر مبنی عالمی سطح کی نئی ادویات شمار ہوتی ہیں۔ یہ تمام ادویات چین کی مقامی دوا ساز کمپنیوں نے خود تیار کی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اختراعی ادویات کی بیرونی لائسنسنگ سے متعلق معاہدوں کی مجموعی مالیت تقریباً 110 ارب امریکی ڈالر رہی، جبکہ ان کے خریداروں میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی سمیت 20 ممالک اور خطے شامل ہیں۔ اس وقت چین میں زیرِ تحقیق نئی ادویات کی تعداد عالمی مجموعے کا تقریباً 30 فیصد ہے، جس کے ساتھ چین اس شعبے میں دنیا میں دوسرے نمبر پر موجود ہے۔