بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین کی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے امریکہ کی جانب سے نام نہاد “جبری مشقت” سے متعلق سیکشن 301 تحقیقات کے حتمی اقدامات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین ہر قسم کی جبری مشقت کی ہمیشہ مخالفت کرتا آیا ہے، ملک میں محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جامع قوانین و ضوابط موجود ہیں اور جبری مشقت کے کسی بھی عمل کی مؤثر روک تھام اور سختی سے کارروائی کی جاتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے 23 جولائی کو نام نہاد جبری مشقت کی آڑ میں چین سمیت 60 معیشتوں پر اضافی سیکشن 301 محصولات عائد کیے، جبکہ چین پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
چینی وزارتِ تجارت کے مطابق امریکہ کی جانب سے “جبری مشقت” کو جواز بنا کر سیکشن 301 تحقیقات شروع کرنا اور یکطرفہ طور پر اضافی محصولات عائد کرنا یکطرفہ پسندی اور تحفظ پسندانہ پالیسی کی ایک نمایاں مثال ہے، جس کی چین سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ چین امریکی اقدامات کی آئندہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے گا، ان کا جامع جائزہ لے گا اور اپنے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین باہمی احترام، برابری اور باہمی مفاد کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ بات چیت اور مشاورت جاری رکھنے کا خواہاں ہے تاکہ دونوں ممالک کو درپیش خدشات اور مسائل کو مناسب طریقے سے حل کیا جا سکے۔