بیجنگ (عکس آن لائن) نوبل انعام یافتہ کیمیادان مائیکل لیوٹ نے سی ایم جی کو ایک خصوصی انٹرویو دیا۔ہفرہ کے روز انہوں نے چین میں کئی برس تک تعلیمی شعبے میں کام کرنے اور چین میں زندگی کے بارے میں پسندیدگی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی عوام نئے تجربات اور کوششوں میں جرات مند ہیں، اور وہ چینی لوگوں کے اختراعی جذبے سے متاثر ہیں۔
چین کی جانب سے “آرٹیفیشل انٹیلی جنس پلس” اقدام کو مزید گہرائی سے آگے بڑھانے کی تجویز کے حوالے سے مائیکل لیوٹ نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنا انتہائی ضروری ہے، اور یہ موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک اہم اقدام ہے۔
چین کی “پندرہویں پانچ سالہ منصوبہ بندی” میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے اختراع اور اعلیٰ معیار کی افرادی قوت کی تربیت پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ بھی مسلسل اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ اختراع ترقی کی قیادت کرنے والی بنیادی قوت ہے اور وہ اس ضمن میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس بارے میں لیوٹ نے کہا کہ اختراع کا محور نوجوان نسل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چینی عوام کی جرات مندانہ سوچ اور نئے تجربات کرنے کے جذبے سے بہت متاثر ہیں۔
مثال کے طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کی ترقی کے لیے صرف ایک کمپنی پر انحصار کرنے کے بجائے متعدد کمپنیوں کی حمایت کی جاتی ہے۔ اگرچہ ان میں سے بعض کمپنیاں ناکام ہو سکتی ہیں، تاہم اس حکمتِ عملی سے کامیابی کے امکانات بھی کہیں زیادہ بڑھ جاتے ہیں