بیجنگ (نیوز ڈیسک) جب “China Travel” کا ٹرینڈ سوشل میڈیا پر چھا گیا تو ایک نیا لفظ بھی خاموشی سے سامنے آیا۔ “Chinamaxxing” جو اب عالمی سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مقبول ثقافتی علامت بنتا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں 50 کروڑ سے زائد صارفین اس رجحان میں حصہ لے رہے ہیں۔
وہ گرم پانی پینے، روئی جیسی نرم چپلیں پہننے، صحت مند چائے بنانے اور “بادویان جن ” جیسی ورزشیں کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور انتہائی دلچسپی سے ” ایک چینی بننے”کے تجرباتی عمل میں حصہ لیتے ہیں، اور مشرق سے آنے والے زندگی کے ایک فلسفہ کو اپناتے ہیں ۔ بہت سے غیر ملکی سیاح اپنے ممالک واپس جانے کے بعد بھی چین کو طویل عرصے تک یاد کرتے رہتے ہیں۔ “چائنا ٹریول ” کی یہ عالمی لہر صرف سیاحت کے اعداد و شمار تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک گہری “شعوری بیداری ” ہے جو عالمی سطح پر جدیدیت، سکیورٹی اور طرزِ زندگی سے متعلق تصورات کو بدل رہی ہے۔
جب چین نے اپنی سرحدیں کھولیں تو 50 ممالک کے لیے یکطرفہ ویزا فری پالیسی نافذ کی، جبکہ 29 ممالک کے ساتھ مکمل باہمی ویزا فری معاہدے کیے۔ اس کے علاوہ 240 گھنٹے کی ٹرانزٹ ویزا فری سہولت کے دائرے کو 55 ممالک تک پھیلا دیا ۔ صرف 2026 کی پہلی سہ ماہی میں ویزا فری داخلے کی سہولت سے فائدہ اٹھا کر چین آنے والے غیر ملکیوں کی تعداد 83 لاکھ 15 ہزار تک پہنچی ، جو آںے والے تمام غیر ملکیوں کا 77.9 فیصد ہے، اور یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 29.3 فیصد اضافہ ہے۔ حالیہ ” یوم مزدور ” کی تعطیلات کے دوران، ویزا فری پالیسی کے تحت داخل ہونے والے غیر ملکیوں کی تعداد 4 لاکھ 36 ہزار رہی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 14.7 فیصد زیادہ ہے۔
ویزا فری پالیسی نے دنیا کو “چین میں داخل ہونے ” کا موقع دیا، تو احساسِ تحفظ نے دنیا بھر کے سیاحوں کے دل جیت لیے ہیں ۔ چین کا حقیقی تجربہ، جہاں سکیورٹی سب سے نمایاں عنصر کے طور پر سامنے آتی ہے، انٹرنیٹ پر “ادراک کے طوفان ” کا باعث بن رہا ہے۔
“چینی طرز کا احساسِ تحفظ ” اب عالمی ویب سائٹس پر ایک مقبول اصطلاح بن چکا ہے۔ کچھ غیر ملکی بلاگرز سڑک پر تجربہ کے لیے قیمتی اشیا کو چھوڑ کر کافی پینے گئے اور واپس آکر دیکھا تو ان کی چھوڑی ہوئی وہ چیز یں بالکل اسی حالت میں اپنی جگہ موجود تھیں۔ کچھ افراد نے حیرت سے کہا “رات کے دو بجے ایک اجنبی شہر میں چلتے ہوئے بھی مجھے مکمل تحفظ محسوس ہوا، جبکہ اپنے ملک میں رات آٹھ بجے کے بعد باہر نکلنے سے بھی ڈر لگتا ہے۔ ” چین میں رات گئے چلنا، دروازے پر رکھے پارسل کا محفوظ رہنا، یا کیفے میں لیپ ٹاپ چھوڑ کر واپس آ جانا ، یہ سب عام باتیں ہیں، مگر غیر ملکی سیاحوں کے لیے ایک حیرت انگیز منظر بن جاتی ہیں۔ یہاں “امن ” صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا ایک محسوس کیا جانے والا تجربہ ہے، جہاں عوام کا احساسِ تحفظ 98.23 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ چینی طرز کی سکیورٹی اس دور کا ایک منفرد اور قیمتی عالمی عوامی اثاثہ بنتی جا رہی ہے۔
جب غیر ملکی سیاح چین پہنچتے ہیں تو ان کی سوچ ہر لحاظ سے بدل جاتی ہے۔ ایک بلاگر نے تیز رفتار ٹرین کی کھڑکی پر سکہ کھڑا کر کے ویڈیو بنائی جو پورے سفر میں نہیں گرا، اور اس ویڈیو نے لاکھوں ویوز حاصل کیے۔ موبائل ادائیگی نے لباس، خوراک، رہائش اور سفر جیسے روز مرہ امور کا احاطہ کر لیا ہے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے ۔ “ایک موبائل سے پورا چین ” کا تصور حقیقت بن چکا ہے۔ غیر ملکی سیاح محسوس کرتے ہیں کہ ان کی روز مرہ طرزِ زندگی کا نئے سرے سے تعین ہو رہا ہے۔ وہ چین کو ” مزیدار کھانے ” اور “پسماندگی ” جیسے پرانے تصورات کے ساتھ دیکھنے آتے ہیں، مگر ایک محفوظ رات کی سیر، بنا دشواری کے آسان ڈیجیٹل ادائیگی، اور تیز رفتار ٹرین کے سفر کے بعد ایک بالکل مختلف، مستقبل کے چین کا تجربہ لے کر جاتے ہیں۔
“Chinamaxxing” کے عالمی رجحان کی مقبولیت کی اصل وجہ یہی ہے کہ دنیا چین کو نئے زاویے سے دیکھ رہی ہے۔ برطانوی جریدے Dazed کی رپورٹ کے مطابق، یہ رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے اور بیرونِ ملک افراد میں چین کے لیے ایک نئی قربت اور شناخت پیدا کر رہا ہے۔ غیر ملکی سیاح اپنی لائیو ویڈیوز اور تجربات کے ذریعے چین کی ایک نئی تصویر دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔ کھلے پن کی پالیسی، مضبوط سکیورٹی، جدید انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل سہولیات کے ذریعے چین خود کو ایک حقیقت پسند، متحرک اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ یہ محض سیاحت کا رجحان نہیں بلکہ عوامی سطح پر پیدا ہونے والی ایک بڑی “ادراکی تبدیلی ” ہے۔