بیجنگ (نیوز ڈیسک)معروف امریکی کالم نگار، انٹرنیٹ ماہر، اور مستقبل شناس کیون کیلی نے چائنا میڈیا گروپ کو دیئے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت تعلیمی پروگراموں کو زیادہ انفرادی بنانے میں مدد دے سکتی ہے، جس کے نتیجے میں “ہر طالب علم کے لیے موزوں تعلیم” کا تصور حقیقت بن سکتا ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ دنیا بھر میں تعلیم کا ایک ویژن یہ ہے کہ طلبہ اپنی صلاحیت اور سیکھنے کی رفتار کے مطابق علم حاصل کر سکیں، اور مصنوعی ذہانت کی “تعلیمی معاونت” کے بغیر اس ویژن کا حصول مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ کلاس روم میں مصنوعی ذہانت کا تعارف تعلیمی پروگراموں کو زیادہ انفرادی بنانے کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ طلباء ضروری مہارتیں حاصل کریں۔
کیون کیلی نے کہا کہ مستقبل میں تعلیم کا مرکزصرف جوابات فراہم کرنے تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ طلبہ میں “سوال پوچھنے، خاص طور پر بامعنی اور قیمتی سوالات کرنے کی صلاحیت” کو فروغ دینا زیادہ اہم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز ہمیشہ اپنے ساتھ چیلنجز اور مواقع دونوں لے کر آتی ہیں۔ ہمیں کھلے ذہن کے ساتھ مسلسل تجربات کرنے ہوں گے اور “ناکامیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا”۔نئی ٹیکنالوجیز کی خامیوں کو کم کرنے اور ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا واحد طریقہ ان کا استعمال کرنا ہے۔