بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین کی ریاستی کونسل کے اطلاعاتی دفتر نے “زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی حکمرانی کے نظام کی تشکیل: چین کے تصورات، تجاویز اور اقدامات” کے عنوان سے ایک وائٹ پیپر جاری کیا۔وائٹ پیپر میں بین الاقوامی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ عالمی حکمرانی کے ان تصورات کو مشترکہ طور پر عملی جامہ پہنائیں اور ایک زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی حکمرانی کا نظام قائم کریں۔
وائٹ پیپر کے مطابق چین ایک ذمہ دار بڑی طاقت کے طور پر، بنی نوعِ انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کا پرچم بلند کیے ہوئے ہے، حقیقی کثیرالجہتی کے اصولوں پر عمل پیرا ہے، اور چین ہمیشہ دنیا میں امن کا معمار، عالمی ترقی کا شراکت دار ، بین الاقوامی نظام کا محافظ اور عوامی خدمت فراہم کرنے والا اہم کردار اد اکرتا رہے گا۔ چین ، ایک زیادہ منصفانہ اور موثر عالمی حکمرانی کے نظام کو فروغ دیتا رہے گا۔
موجودہ دنیا متعدد پیچیدہ بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے، جو عالمی حکمرانی کی موثر صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔ دورِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے، 2025 کے “شنگھائی تعاون تنظیم پلس” اجلاس میں چینی صدر نے گلوبل گورننس انیشی ایٹو پیش کیا۔ گلوبل گورننس انیشی ایٹو مساوی خودمختاری، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، کثیر الجہتی نظام پر عمل درآمد، عوام کو مرکزیت بنانے اور عملی اقدامات پر توجہ دینے کی وکالت کرتا ہے۔ اس کا مقصد انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر اور عالمی امن و ترقی کو فروغ دینا ہے۔ گلوبل گورننس انیشی ایٹو نہ صرف موجودہ بین الاقوامی چیلنجز کا موثر جواب ہے بلکہ گلوبل گورننس کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں بھی ایک رہنما فریم ورک مہیا کرتا ہے۔
ایک زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی حکمرانی کا نظام بنانا صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ٹھوس عمل ہے۔ چین نے انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کے تصور کو عملی شکل دینے کے لیے گلوبل ڈیولپمنٹ، گلوبل سیکیورٹی، گلوبل سیولائزیشن اور گلوبل گورننس انیشی ایٹوز پیش کیے، جبکہ “بیلٹ اینڈ روڈ” مصنوعی ذہانت کے عالمی تعاون کی تنظیم، بین الاقوامی ثالثی تنظیم اور کنمنگ حیاتیاتی تنوع فنڈ جیسے عملی پلیٹ فارمز کے قیام میں بھی پیش پیش رہا۔ ان اقدامات نے عالمی حکمرانی کے نظام میں موجود خلا کو پُر کرنے اور عالمی برادری کو مزید جامع اور مؤثر عوامی مصنوعات فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ، وائٹ پیپر اس بات پر زور دیتا ہے کہ گلوبل ساؤتھ ممالک کی آواز کو مزید اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ آج دنیا شدید اور پیچیدہ بحرانوں اور چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اور گلوبل ساؤتھ کی آواز کو مزید موثر بنانا اور اس کی نمائندگی کو مزید مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔یہ صرف ترقی پذیر ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کا مسئلہ نہیں، بلکہ تمام ممالک کی خودمختار مساوات کے اصول کے تحفظ سے بھی متعلق ہے۔ اس سے بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو فروغ ملتا ہے، طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، اور عالمی حکمرانی کے نظام میں موجود عدم توازن اور کمزوریوں کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
چین اور پاکستان، جو گلوبل ساؤتھ کی کلیدی قوتیں ہیں، اس ضمن میں ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔ دونوں ممالک اقتصادی ترقی، سلامتی اور استحکام، تہذیبوں کے درمیان باہمی سیکھ، اور عالمی حکمرانی میں ہاتھ سے ہاتھ ملا کر کام کرتے رہے ہیں، اور انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فعال طور پر فروغ دے رہے ہیں۔
معاشی شعبے میں، چین-پاکستان اقتصادی راہداری، جو “بیلٹ اینڈ روڈ” کا فلیگشپ منصوبہ ہے، اس منصوبے نے بجلی اور نقل و حمل کا وسیع انفراسٹرکچر تعمیر کیا ہے، لاکھوں ملازمتیں پیدا کیں ہیں، اور اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے کو ٹھوس حمایت فراہم کی ہے۔ سلامتی کے میدان میں، دونوں فریق، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرتے رہے ہیں۔ چین اور پاکستان یکطرفہ بالادستی اور دہشت گردی کے دوہرے معیار کی مخالفت کرتے ہیں، اقوام متحدہ اور ایس سی او کے دائرہ کار میں افغانستان اور مشرق وسطیٰ جیسے پیچیدہ مسائل پر مشترکہ طور پر رابطے میں رہے ہیں،اور دونوں ممالک نے علاقائی امن و استحکام کی بحالی کے لیے “پانچ نکاتی تجاویز” مشترکہ طور پر پیش کی ہیں ۔ تہذیبوں کے تبادلوں اور باہمی سیکھ کے حوالے سے، دونوں ممالک تعلیم، فلم اور ٹیلی ویژن کے شعبے اور کنفیوشس انسٹی ٹیوٹس کی تعمیر جیسے تعاون سے عوامی تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر، چین اور پاکستان اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے فریم ورک کے تحت قریبی تعاون برقرار رکھے ہوئے ہیں، دونوں ممالک اقوام متحدہ کے اختیارات اور مرکزی کردار کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، مساوی اور منظم کثیر قطبی عالمی نظام اور جامع و مفادِ عامہ پر مبنی اقتصادی عالمگیریت کی حمایت کرتے ہیں، اور بین الاقوامی نظام کو مزید منصفانہ، متوازن اور معقول سمت میں آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔
مستقبل کی جانب
دیکھتے ہوئے، گلوبل گورننس انیشی ایٹو بتدریج ایک تصور سے عملی اقدامات کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ چین اور پاکستان سمیت دیگر ممالک جامع مشاورت، مشترکہ تعمیر اور مشترکہ فوائد کے اصولوں کی بنیاد پر عالمی حکمرانی کے نظام میں اصلاحات اور بہتری کے عمل کو آگے بڑھاتے رہیں گے، تاکہ اسے مزید منصفانہ اور معقول بنایا جا سکے۔ اس مشترکہ کوشش کے ذریعے انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے سفر میں ایک نیا اور روشن باب رقم کیا جائے گا۔