چینی صدر

تائیوان علاقے کے رہنما کی تقریر سیاسی دھوکا بازی سے کم نہیں ہے، چینی میڈیا

بیجنگ (نیوز ڈیسک)تائیوان علاقے کے رہنما لائی چھنگ ڈے کی حالیہ تقریر جسے 20 مئی کو بڑی محنت سے ترتیب دیا گیا ہے، سیاسی دھوکا بازی اور تماشے سے کم نہیں۔جمعرات کے روز چینی میڈیا کے مطا بق اس کا بنیادی مقصد چین کے اقتدارِ اعلیٰ سے متعلق سنجیدہ مسئلے کو چالاکی سے “جمہوریت کے دفاع” کے نام پر جعلی اخلاقی مسئلے میں تبدیل کرنا ہے۔

لائی چھنگ ڈہ تائیوان کو “‘عالمی جمہوری زنجیر’ کی ایک روشن کڑی “، “عالمی جمہوری سپلائی چین کا اہم حصہ”، اور “دنیا کا تائیوان” قرار دے کر دراصل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ چین کے ملک کی وحدت کے جائز عمل کو “جمہوریت مخالف” اقدام کے طور پر توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے، تاکہ نام نہاد”جمہوری ممالک” کو “جمہوریت کے تحفظ” کے نام پر چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر اکسایا جا سکے۔ اس ” دھوکے ” کا مقصد کچھ سیاست دانوں کے سیاسی مفادات ہیں اور چین کے اقتدار اعلی کو نقصان پہنچانے کے لیے گھڑا گیا ایک فریب ہے ،جس کا مقصد ” تائیوان کی علیحدگی” کو ایک جعلی “اخلاقی لبادہ” پہنانا ہے۔

مزکورہ تقریر کے بیانیے میں، تائیوان انتظامیہ کے رہنما اور ان کے پشت پناہ جان بوجھ کر تائیوان کے مسئلے کی اصل حقیقت سے نظریں چرُا رہے ہیں کہ یہ “جمہوریت بمقابلہ آمریت” کا تصادم نہیں ہے، بلکہ چین کی وحدت کا ایک تاریخی مسئلہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ صرف ” تائیوان کی علیحدگی” کا نعرہ بین الاقوامی سطح پر قبول نہیں کیا جا سکتا، اسی لیے وہ مغربی نظریاتی بیانات کا سہارا لے کر ، اپنے آپ کو “جمہوریت کی اگلی صف” کے محافظ کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ چائنیز مین لینڈ کو “آمریت کی دھمکی” کے طور پر پیش کرتے ہیں، گویا چین کا اقتدارِ اعلیٰ کا استعمال اور وحدت “آزاد دنیا” پر ایک حملہ ہے۔ یہ نہ صرف عالمی رائے عامہ کو الجھا رہے ہیں ، بلکہ ان مغربی قوتوں کو بھی جواز فراہم کر رہے ہیں جو “تائیوان کارڈ کا استعمال کر کےچین کو روکنے” کی کوشش کرتے ہیں ، یوں تائیوان کو ایک “مہرہ” بنایا جا رہا ہے جس کا “دفاع” کرنا ضروری ہے۔

اپنی تقریر میں تائیوان کے رہنما نے یہ تلقین کی کہ “تائیوان کا مستقبل 23 ملین لوگوں کے ذریعے طے کیا جائے گا”، یوں “تائیوان کے باشندوں کے حق خود ارادیت” کے ذریعے ” تائیوان کی علیحدگی” کی خواہش کو چھپایا گیا ہے، لیکن بنیادی حقیقت کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہےکہ تائیوان چین کا اٹوٹ حصہ ہے، اس کا مستقبل صرف 1.4 ارب سے زائد چینی عوام بشمول تائیوان کے ہم وطنوں کے ذریعے طے کیا جا سکتا ہے۔ اس میں جمہوریت کے تصور کو یرغمال اور غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

درحقیقت، چین کی وحدت کے حصول میں نظام کا فرق کبھی رکاوٹ نہیں رہا، اور نہ ہی یہ علیحدگی کا بہانہ بن سکتا ہے۔ چین کی “ایک ملک، دو نظام” کی پالیسی، تاریخی مسائل اور نظامی اختلافات کو حل کرنے کے لیے ایک عظیم الشان ایجاد ہے، جو ایک خود مختار ریاست کے اندر مختلف سماجی نظاموں کے پرامن بقائے باہمی کی اجازت دیتی ہے، اور یہ چین کی دانشمندی کی عکاسی ہے جو اختلافات میں مشترکہ نکات تلاش کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ ہانگ کانگ اور مکاؤ کی وطن واپسی کے بعد کی کامیاب عملی مشقوں نے مکمل طور پر ثابت کر دیا ہے کہ مختلف سماجی نظام “ایک چین” کے فریم ورک میں مل کر ترقی اور خوشحالی حاصل کر سکتے ہیں۔

تائیوان کو “دنیا کا تائیوان” قرار دے کر اور بیرونی قوتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش، ” تائیوان کی علیحدگی” کے حامیوں کی آخری جدوجہد سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ تائیوان کا رہنما یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تائیوان “‘پہلی جزیرہ زنجیر’ میں اہم اسٹریٹجک مقام” رکھتا ہے، تاکہ وہ بیرونی قوتوں سے اپنی علیحدگی کی اشتعال انگیزیوں کے لیے حمایت مانگ سکے، اور چین کے ترقیاتی عمل کو روکنے کے لیے “مہرہ” بن سکے۔ تاہم تاریخ واضح کرتی ہے کہ تائیوان چین کا تائیوان ہے، تائیوان کا مسئلہ مکمل طور پر چین کا داخلی معاملہ ہے اور اس میں بیرونی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی؛ خواہ کتنی ہی خوش آمد اور مدد کیوں نہ مانگی جائے، یہ صرف ایک “مہرہ” ہے، ” تائیوان کی علیحدگی” ایک بند گلی ہے، “بیرونی انحصار پر مبنی علیحدگی” صرف اپنے انجام کو دعوت دے گی، جو آج “مہرہ” بنے ہوئے ہیں وہ کل کو “استعمال شدہ مہرے” ثابت ہوں گے۔

ملک کی وحدت تمام چینی عوام کی مشترکہ خواہش ہے، یہ وقت کا تقاضا ہے اور یہی سیدھا راستہ ہے جو ضرور طے کرنا ہے۔ چاہے تائیوان کا رہنما کچھ بھی کہے اور جیسے بھی کہے، وہ تائیوان کے چین کا ایک حصہ ہونے کی حیثیت اور حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا، نہ ہی دونوں کناروں کے تعلقات کے بنیادی ڈھانچے اور سمت کو تبدیل کر سکتا ہے، اور نہ ہی اس تاریخی رجحان کو روک سکتا ہے کہ چین بالآخر متحد ہو گا۔ “جمہوریت” کے نام پر “علیحدگی” کی ہر کوشش ناکام ہو گی۔ “جمہوریت” کے مسئلے کے طور پر اقتداراعلی کے مسئلے کو بدلنے کا کوئی بھی سیاسی دھوکا جلد یا بدیر فاش ہو جائے گا۔ چین کی وحدت کا مشن ضرور پورا ہوگا ۔