اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے موقع پر چین کی جانب سے ایونٹ کا انعقاد

اقوام متحدہ (نیوز ڈیسک) “چائنا سوسائیٹی فار یونائیٹڈ نیشنز اسٹڈیز اور جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں چین کے مستقل مشن نے مشترکہ طور پر جنیوا کے پیلس آف نیشنزمیں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے باسٹھویں اجلاس کے موقع پر ایک سائیڈ ایونٹ کا انعقاد کیا۔اس ایونٹ کا موضوع “انسانی حقوق اور عالمی طرز حکمرانی” تھا۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اتحاد اور تعاون کے ذریعے انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ چین عالمی انسانی حقوق کے تعاون میں فعال کردار ادا کر رہا ہے اور انسانی حقوق کے حوالے سے ایک زیادہ منصفانہ، معقول اور جامع عالمی نظامِ حکمرانی کے قیام کو فروغ دے رہا ہے۔

اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ اس وقت، جغرافیائی و سیاسی تنازعات میں اضافے ، عالمی ترقی میں عدم توازن اور ٹیکنالوجی سے متعلق اخلاقی چیلنجز کے باعث انسانی حقوق کے تحفظ کا عالمی نظام ایک سخت آزمائش سے گزر رہا ہے۔اس صورتحال میں ضروری ہے کہ تمام ممالک باہمی تعاون کو فروغ دیں، انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے مل کر کام کریں اور ہر ملک کو اپنے قومی حالات اور عوامی ضروریات کے مطابق انسانی حقوق کی ترقی کا راستہ اختیار کرنے کا حق حاصل ہو۔ شرکاء نے اس بات کی مخالفت کی کہ کوئی ملک اپنا ماڈل دوسروں پر مسلط کرے یا انسانی حقوق کو سیاسی مقاصد اور دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرے۔

شرکاء نے مزید کہا کہ حال ہی میں چین کی جانب سے “ایک زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی طرز حکمرانی کے نظام کی تشکیل: چین کے تصورات، اقدامات اور عمل” کے عنوان سے جاری کیا گیا وائٹ پیپر اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ چین “ترقی کے ذریعے انسانی حقوق کے فروغ” کے تصور پر فعال طور پر عمل پیرا ہے، اور عالمی انسانی حقوق کے تعاون میں شرکت کرتے ہوئے ایک زیادہ منصفانہ، معقول اور جامع انسانی حقوق کے طرز حکمرانی کے عالمی نظام کی تعمیر کو فروغ دے رہا ہے۔ چین ترقی کے ذریعے خواتین کے حقوق کا تحفظ کر رہا ہے، اور پرعزم ہے کہ جدیدیت کی تعمیر کے ثمرات تمام قومیتوں کے لوگوں تک زیادہ اور منصفانہ طور پر پہنچیں۔ قومی زبان کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ، چین مختلف قومیتی زبانوں اور رسم الخط کے تنوع کا احترام اور تحفظ بھی کر رہاہے ۔

شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو عالمی انسانی حقوقی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک واضح سمت فراہم کرتا ہے ۔ “یونائیٹڈ نیشنز ہیومن رائیٹس کونسل “کو انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے اپنے بنیادی مقصد پر قائم رہنا چاہیے، عالمگیریت اور انصاف کے اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے، غیر سیاسی اور غیر امتیازی رویہ اپنانا چاہیے اور حقیقی معنوں میں تمام ممالک کے درمیان مکالمے، تبادلۂ خیال اور تعاون کا مؤثر پلیٹ فارم بننا چاہیے۔