بیجنگ (نیوز ڈیسک)105سالہ تاریخ رکھنے والی اور دس کروڑ سے زائد ارکان پر مشتمل کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے ایک ارب 40 کروڑ سے زائد آبادی والے بڑے ملک کی 77 سال تک مستحکم قیادت کی ہے۔ بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال موجود ہے کہ کیا کوئی جماعت طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے بعد بتدریج سستی، بدعنوانی اور عوام سے دوری کا شکار ہو سکتی ہے؟ شی جن پھنگ کی پارٹی تعمیر سے متعلق سوچ اس سوال کا ایک جامع حل پیش کرتی ہے۔
شی جن پھنگ کی پارٹی تعمیر سے متعلق سوچ کا بنیادی نکتہ عوام کو اولین ترجیح دینا اور عوام کو مرکز بنانا ہے۔ شی جن پھنگ نے متعدد مواقع پر واضح کیا ہے کہ “کمیونسٹ پارٹی اقتدار عوام کے لیے حاصل کرتی ہے اور اسے عوام کے لیے برقرار رکھتی ہے، اصل مقصد عوام کے دلوں کی حفاظت کرنا ہے۔” تمام کاموں میں ہمیشہ عوامی مفاد کو معیار بنایا جاتا ہے۔ پارٹی کی مکمل رہنمائی کی روشنی میں مرکزی اور متحدہ قیادت کے نظام کی بدولت ہی ایسے بڑے پیمانے کے عوامی فلاحی منصوبے عملی شکل اختیار کر سکتے ہیں جو کروڑوں لوگوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔
شی جن پھنگ کی پارٹی تعمیر سے متعلق سوچ دنیا کی مختلف سیاسی جماعتوں کو حکمرانی کے مسائل سے نکلنے کے لیے ایک نیا حوالہ فراہم کرتی ہے، اور تین اہم اسباق بھی فراہم کرتی ہے۔اول، سیاسی جماعتوں کو عوامی مفاد کے مؤقف پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے اور محدود مفاد رکھنے والے گروہوں کے اثر و رسوخ سے خود کو محفوظ رکھنا چاہیے۔ دوم، سیاسی جماعتوں کو مسلسل خود احتسابی، نگرانی اور اصلاح کے نظام کو قائم کرنا چاہیے۔سوم، سیاسی جماعتوں کی تعمیر کو اپنے ملک کے مخصوص حالات کے مطابق ہونا چاہیے اور کسی ایک مغربی طرز کے ماڈل کی اندھی تقلید سے گریز کرنا چاہیے۔
عالمگیریت کے اس دور میں موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ اور عوامی صحت جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف ممالک کی سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا مختلف ممالک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان مساوی بنیادوں پر تبادلے اور باہمی سیکھنے کو فروغ دے رہی ہے تاکہ انسانیت کو درپیش مشترکہ مسائل کے حل کے لیے مشترکہ قوت پیدا کی جا سکے۔ یہ عمل انسانی سیاسی تہذیب کے تنوع کو مزید وسعت دے رہا ہے۔