بیجنگ (نیوز ڈیسک)پروفیسر ہیک مین کا شمار مائیکرو اکنومیٹرکس کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے مائیکرو اکنومیٹرکس کے نظریات اور طریقۂ کار کی ترقی میں شاندار خدمات کے لیے ڈینیئل میک فیڈن کے ساتھ سال 2000 کا نوبل انعام برائے اقتصادیات بھی حاصل کر رکھا ہے۔
چائنا میڈیا گروپ کے ساتھ ایک حالیہ خصوصی انٹرویو کے دوران ہیک مین نے کہا کہ چینی معیشت کے بارے میں ان کا پرامید رویہ ان کے طویل مدتی مشاہدات پر مبنی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ چینی عوام نے ہمیشہ عملی نتائج کی قدر کی ہے اور وہ حقائق کی بنیاد پر محنت کرتے ہیں۔ چینی عوام انتہائی دانشمند ہیں اورچین کی سماجی بنیاد مضبوط ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں چین، ہیک مین کی تحقیق کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین تیزی سے ترقی کر رہا ہے، پیشہ ورانہ ڈھانچے میں تبدیلیوں اور صنعتی اپ گریڈنگ کے نتیجے میں چین میں اشیاء کی پیداوار کے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ لاجسٹکس کا نظام بھی بہت بہتر ہوا ہے۔ چین کی مختلف صنعتیں اور جامعات بھرپور توانائی کی حامل ہیں۔ چینی طلباء میں یکجہتی اور قومی فخر کا مضبوط احساس وہ چیز ہے جس کی بہت سے امریکیوں میں کمی ہے۔
ان کے بقول، آج بہت سے امریکی طلباء بہت سست ہیں اور وہ محنت نہیں کرنا چاہتے۔ انٹرویو میں پروفیسر ہیک مین نے اس بات پر زور دیا کہ چین اقتصادی اور تعلیمی دونوں شعبوں میں زیادہ کھلے رویے کے ساتھ دنیا میں ضم ہو رہا ہے۔انہوں نے چین کے لیے مزید کامیابیوں اور ترقی کی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔