بیجنگ (نیوز ڈیسک)چار سال قبل چینی صدر شی جن پھنگ نے پہلی بار بوآؤ فورم فار ایشیا کے سالانہ اجلاس میں گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو کی تجویز پیش کی۔ گزشتہ چار سالوں میں علاقائی تنازعات، بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلوں اور عالمی حکمرانی کی کمزوری کا کڑا امتحان سامنے آیا ہے۔ عملی تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ جب “زیرو سم گیم”اور” انفرادی سلامتی” پر مبنی پرانا تصور دنیا کو ایک گہرے بحران میں دھکیل دیتا ہے، تو مشترکہ سلامتی کا تصور عالمی سلامتی کے مسئلے کو حل کرنے اور دنیا کے ڈھانچے کی تشکیل نو کی کلید بن جاتا ہے۔
گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو ایک بنیادی مسئلے کا درست جواب دیتا ہے کہ آخر کس نوعیت کے سلامتی کے تصور کی ضرورت ہے تاکہ انسانیت بار بار تصادم اور مسابقت کے گرداب میں نہ گرے؟موجودہ عالمی ہلچل کی جڑ بڑی حد تک ایک گہرے اور پیچیدہ “سلامتی کے تضاد” میں ہے: ہر ملک اپنی سلامتی کا تعاقب کرتا ہے، لیکن کچھ ممالک دوسرے ممالک کی سلامتی کی قیمت پر اپنی مطلق سلامتی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نیٹو کی مسلسل مشرق کی طرف توسیع کے نتیجے میں پیدا ہونے والا روس-یوکرین تنازعہ، اور بعض بڑی طاقتوں کے ایشیا پیسفک میں فوجی اتحاد کو مضبوط کرنے کے باعث پیدا ہونے والا تناؤ، اسی منطق کی واضح مثالیں ہیں ۔ اس طرز فکر کے تحت سلامتی محض یہ ہے کہ اپنی سلامتی کو دوسروں کی سلامتی کی قیمت پر قائم کیا جائے، جو بالآخر سلامتی کے بحرانوں میں مزید شدت کا باعث بنتا ہے۔
گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو کی اہمیت اس میں ہے کہ اس نے زیروسم منطق کی مکمل طور پر نفی کی ہے۔ “مشترکہ، جامع ، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے نقطہ نظر پر قائم رہنا” سلامتی کی ہمہ گیری پر زور دیتا ہے ۔ آج کی دنیا میں، ممالک کے مفادات آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ان کی سلامتی مشترکہ ہے، ایسی کوئی مطلق سلامتی ممکن نہیں جو دوسروں کے عدم تحفظ پر قائم ہو ۔ “تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا”اور” اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی پابندی کرنا” سکیورٹی گورننس کے لیے بنیادی رہنما اصول ہیں، جن کا مقصد یہ ہے کہ یکطرفہ پسندی اور گروہی سیاست کی مخالفت کی جائے ۔ “اختلافات اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے بات چیت اور مشاورت پر قائم رہنا” سلامتی کے حصول کے لئے صحیح راہ کی نشاندہی کرتا ہے۔
فکر کی طاقت عمل میں ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں، گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو کو 130 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی حمایت حاصل ہوئی ہے، اور اس کے بنیادی تصورات 140سے زائد دو طرفہ اور کثیر الجہتی دستاویزات میں محفوظ کیے گئے ہیں۔ لیکن اس سے زیادہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انیشی ایٹو کے فریم ورک کے تحت حقیقی عملی نتائج حاصل ہوئے ہیں۔
چین نے اہم عالمی مسائل کے سیاسی حل میں منفرد تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تاریخی مفاہمت اس انیشی ایٹو کی ایک تاریخی کامیابی ہے۔ فلسطین -اسرائیل تنازع میں، چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پہلی قرارداد منظور کرنے کو فروغ دیا جس میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا، اور اس کے ساتھ فلسطینی دھڑوں کے درمیان مفاہمت اور مکالمے کو فروغ دیا گیا۔ یوکرین بحران کی بات ہو یا امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ ، چین نے ہمیشہ اپنا واضح موقف پیش کیا ، خصوصی ایلچی تعینات کیے، اور ہمیشہ غیر جانبدارانہ انداز میں امن مذاکرات کی حمایت کی۔ شمالی میانمار کے مسئلے پر، چین نے امن مذاکرات کے متعدد ادوار کی ثالثی کی جس کے نتیجے میں باضابطہ جنگ بندی ممکن ہوئی ۔ وسطی ایشیا میں، چین اور دیگر ممالک نے مشترکہ طور پر “بیلٹ اینڈ روڈ” سیکیورٹی سسٹم کی تعمیر کی ۔ یہ تمام اقدامات ایسے طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتے ہیں جو “گروہ بندی” اور “محاذ آرائی” سے مختلف ہے۔
مزید برآں، مشترکہ سلامتی کا تصور بین الاقوامی نظام کی ترقی کو زیادہ منصفانہ اور معقول سمت میں فروغ دے رہا ہے۔ روایتی طور پر، عالمی سلامتی کی حکمرانی طویل عرصے سے چند بڑی طاقتوں کے زیر اثر رہی ہے، اور ترقی پذیر ممالک اکثر “حکمرانی کے وصول کنندہ” یا حتیٰ کہ جغرافیائی سیاسی کھیلوں کے شکار بھی رہے ہیں۔ گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو تمام ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے جائز خدشات کے احترام پر زور دیتا ہے، مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا ہے، اور یکطرفہ پابندیوں اور”لانگ آرم دائرہ اختیار”کی مخالفت کرتا ہے۔یہ اصول بڑے پیمانے پر ترقی پذیر ممالک کو ‘کسی فریق کا ساتھ دینے’ سے مختلف ایک بہتر راہ فراہم کرتے ہیں، اور بین الاقوامی تعلقات کو حقیقی کثیر الجہتی اور زیادہ مساوی ڈھانچے کی طرف لے جاتے ہیں۔
یقیناً یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ نظریات کو عملی شکل دینا ایک مسلسل عمل ہے اور یہ کسی ایک دن میں ممکن نہیں ہوتا۔ سرد جنگ کی ذہنیت، بالادستی کی سوچ اور طاقت کی سیاست اب بھی موجود ہیں، اور بعض قوتیں گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو کے بارے میں شکوک و شبہات یا مزاحمت کا اظہار کرتی ہیں۔ تاہم یہی امر اس بات کو مزید واضح کرتا ہے کہ مشترکہ سلامتی کے تصور کو فروغ دینا کس قدر ضروری اور فوری تقاضا ہے۔
آج دنیا تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑی ہے، اور گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو انسانی وقار کے احترام، پرامن ترقی کی پاسداری، اور مشترکہ تقدیر کی سمجھ کے ساتھ، انسانیت کو افراتفری اور بےچینی سے نکلنے اور ایک زیادہ منصفانہ اور جامع نیا ڈھانچہ بنانے کے لیے چینی حکمت فراہم کر رہا ہے۔ تاریخ بالآخر ثابت کرے گی کہ صرف مشترکہ سلامتی کی طرف بڑھ کر ہی انسانیت حقیقی سلامتی حاصل کر سکتی ہے۔