شہباز شریف

وزیر اعظم کے دورۂ چین سے پاک چین عملی تعاون کی نئی بلندیوں کا آغاز

بیجنگ (نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والا یہ دورہ بلاشبہ دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس سے ایک ماہ قبل، 25 اپریل سے یکم مئی تک پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بھی چین کے جنوبی صوبوں حونان اور ہائی نان کا دورہ کر چکے ہیں۔ کسی ایک ملک کے صدر اور وزیر اعظم کا ایک ہی ماہ میں یکے بعد دیگرے دورۂ چین، نہ صرف چین۔پاکستان تعلقات بلکہ عالمی سفارت کاری میں بھی ایک غیر معمولی مثال سمجھا جا رہا ہے۔

واضح طور پر یہ محض سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منانے کی رسمی تقریب نہیں، بلکہ دونوں ممالک اقتصادی، سائنسی، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔ اس عمل کا مقصد چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے ورژن 2 کو اپ گریڈ کرنا ، “ہمہ موسمی دوستی”” کو حقیقی ترقیاتی ثمرات میں ڈھالنا اور چین پاک ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔

چین پاک دوستی وقت کی آزمائش پر پورا اتری ہے، جبکہ عملی تعاون کے نتائج بھی نمایاں رہے ہیں ۔ “بیلٹ اینڈ روڈ” کے علامتی اور اہم پائلٹ منصوبے کے طور پر ، سی پیک کی تعمیر مسلسل تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔

چینی سفارت خانے کی جانب سے اپریل میں جاری کردہ تازہ فیکٹ شیٹ کے مطابق اب تک سی پیک منصوبوں میں تقریباً 25.93 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، جبکہ دو لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ 510 کلومیٹر سڑکیں، 886 کلومیٹر بنیادی ٹرانسمیشن لائنیں تعمیر کی گئی ہیں اور 8 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے پاکستان میں طویل عرصے سے جاری توانائی بحران میں بنیادی سطح پر بہتری آئی ہے۔

2025 میں چین اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 25 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا، جبکہ چین مسلسل 12ویں سال پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا۔ سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی چین پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ مالی سال 2024-2025 میں چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری1.22 ارب امریکی ڈالر رہی، جو پاکستان میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کا 49.8 فیصد بنتی ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کے اس دورے کا شیڈول نہایت مصروف اور عملی نوعیت کا ہے، جس میں مقامی سطح کے روابط اور مرکزی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کو یکجا کیا گیا ہے۔ 23 مئی کو شہباز شریف ہانگ چو پہنچے، جہاں انہوں نے اسی شام صوبہ زے جیانگ اور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے درمیان دوستانہ تبادلوں کی یادداشت پر دستخطوں کی تقریب میں شرکت کی، جس سے مقامی تعاون کے ایک نئے ماڈل کا آغاز ہوا۔

24 مئی کی صبح انہوں نے تیسری چین۔پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی، بیٹری اسٹوریج اور زرعی بی ٹو بی سرمایہ کاری سمٹ میں شرکت کی، جہاں چین اور پاکستان کی 500 سے زائد کمپنیوں نے حصہ لیا اور ڈیجیٹل معیشت، نئی توانائی اور جدید زراعت پر مرکوز متعدد تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ بعد ازاں شہباز شریف نے علی بابا گروپ کے صدر دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چین کے ای کامرس، ڈیجیٹل گورننس اور پلیٹ فارم اکانومی کے تجربات کا جائزہ لیا تاکہ پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے نئی راہیں متعین کی جا سکیں۔

واضح رہے کہ چین کی پاکستان کے ساتھ تعاون کی حکمتِ عملی اب” مالی معاونت “سے آگے بڑھ کر ” خود انحصاری پیدا کرنے ” کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ڈیجیٹل معیشت کے شعبے میں دونوں ممالک مشترکہ طور پر ڈیجیٹل مراکز قائم کرنے اور چینی ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کو علاقائی ڈیجیٹل ہب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صنعتی شعبے میں مقامی پیداواری لائنوں کے قیام کے ذریعے پاکستان کی مینوفیکچرنگ صلاحیت بڑھانے اور “محض اسمبلنگ/آؤٹ سورسنگ پر انحصار” کم کرنے کی کوشش جاری ہے۔ مالیاتی شعبے میں دونوں ممالک چینی یوآن میں لین دین کے دائرہ کار کو وسعت دے رہے ہیں، جبکہ پاکستان چین میں “پانڈا بانڈ”جاری کر کے زرمبادلہ کے دباؤ میں کمی لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ہانگ چو کے بعد بیجنگ کا دورہ شہباز شریف کے اس دورے کا سب سے نمایاں حصہ ہے۔ شہباز شریف چین کے صدر شی جن پھنگ اور وزیرِ اعظم لی چھیانگ سے الگ الگ ملاقاتیں اور بات چیت کریں گے، جن میں چین۔پاکستان تعلقات کی مستقبل کی سمت کا تعین کیا جائے گا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں فریق تجارتی معاہدے کی اپ گریڈیشن، انڈسٹریل پارکس، زراعت، معدنیات، نئی توانائی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

باہمی تعاون کی ترجیح کے طور پر سی پیک کا “ورژن 2.0 اپ گریڈ” تیز رفتاری سے آگے بڑھے گا — جس کا محور صرف “فزیکل کنیکٹیویٹی” سے آگے بڑھ کر صنعتی انضمام، جدید زراعت، معدنی وسائل کی ترقی، ڈیجیٹل معیشت اور گرین انرجی کی جانب منتقل ہوگا تاکہ اس راہداری کو “ترقی کی راہداری، جدت کی راہداری اور سبز راہداری” میں تبدیل کیا سکے۔ اسی طرح گوادر بندرگاہ سے متعلق سہولیات میں بھی مسلسل بہتری لائی جا رہی ہے، جبکہ بین الاقوامی ہوائی اڈہ، دوستی اسپتال اور سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے منصوبے جیسے عوامی فلاحی منصوبے مکمل طور پر فعال ہو چکے ہیں، جس سے علاقائی روابط کی صلاحیت مزید بہتر ہوئی ہے۔

موجودہ عالمی منظر نامے میں جہاں عالمی معیشت کی بحالی سست ہے اور علاقائی تعاون میں غیر یقینی بڑھ رہی ہے، وہاں چین اور پاکستان کا تجارت، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے میں تعاون کو مضبوط کرنا نہ صرف باہمی فائدے کا عملی اقدام ہے بلکہ خطے کے استحکام و ترقی کے لیے ذمہ دارانہ کردار بھی ہے۔

شہباز شریف کا یہ دورۂ چین،دو طرفہ سفارتی تعلقات کے قیام کی پچھترویں سالگرہ کے موقع پر روایتی دوستی کو آگے بڑھاتے ہوئے عملی نتائج پر مرکوز ہے۔یہ دورہ سی پیک کی معیاری ترقی کو تقویت دے گا، دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی اور علاقائی رابطہ سازی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے نئی قوت فراہم کرے گا۔ایک نئے تاریخی موڑ پر چین اور پاکستان کا شانہ بشانہ آگے بڑھنا “ہمہ موسمی دوستی” کا ایک نیا باب رقم کرے گا اور انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے ایک مثال قائم کرے گا۔