آم

سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ

اسلام آ باد (نیوز ڈیسک) گرمیوں کے اس موسم میں پاکستان کے سب سے بڑے آم پیدا کرنے والے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں کاشتکار آم کی فصل کی چنائی میں مصروف ہیں۔ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کی مسلسل پیش رفت کے ساتھ پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس عمل کے دوران نہ صرف آم کی کاشت کی ٹیکنالوجی میں بہتری آئی ہے بلکہ آم کی صنعت کی جدید خطوط پر ترقی بھی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں کاشتکاروں کو زیادہ آرڈرز مل رہے ہیں، جبکہ صارفین کو بہتر معیار کے آم دستیاب ہو رہے ہیں۔ یہ دراصل “بیلٹ اینڈ روڈ” سمیت کثیرالجہتی تعاون کے ذریعے حاصل ہونے والے مشترکہ فوائد کی ایک مثال ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پیش کیے جانے کے بعد ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور اب تک 150 سے زائد ممالک اور 30 سے زیادہ بین الاقوامی تنظیمیں اس میں شامل ہو چکی ہیں۔ ماضی میں شاہراہِ ریشم کے ذریعے مصالحے، چینی مٹی کے برتن اور چائے جیسی مصنوعات مختلف علاقوں تک پہنچائی جاتی تھیں، جبکہ آج پاکستان کے آم، افغانستان کے چلغوزے، چین کے اسمارٹ گھریلو برقی آلات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء بی آر آئی کے تحت قائم رابطہ منصوبوں کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچ رہی ہیں۔جون چھاؤ گھاس سے لے کر لُو بان ورکشاپس تک، پھر ریلوے اور بندرگاہوں کی تعمیر تک، متعدد منصوبے نہ صرف شراکت دار ممالک کی معاشی صلاحیت کو مضبوط کر رہے ہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں بھی حقیقی بہتری لا رہے ہیں۔

ترقی سے متعلق مشترکہ اتفاقِ رائے کو فروغ دینے اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے چین نے 2021 میں گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو پیش کیا۔ تاحال ، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے تحت 23 ارب امریکی ڈالر سے زائد کے وسائل متحرک کیے جا چکے ہیں، جبکہ 1,800 سے زیادہ تعاون پر مبنی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے صلاحیت سازی کے دس ہزار سے زائد پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں، جن کے ذریعے دو لاکھ سے زیادہ افراد کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کی گئی ہے۔ یوں ،جامع اور سب کے لیے یکساں ترقی کے ثمرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کو اقوام متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیموں اور 100 سے زائد ممالک کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ 80 سے زیادہ ممالک ” گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو فرینڈزگروپ” میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 100 ممالک، خطوں اور بین الاقوامی اداروں نے چین کے ساتھ اس انیشی ایٹو سے متعلق تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے ہیں۔

بڑھتے ہوئے تجارتی روابط کے ساتھ چین میں تیار ہونے والی زیادہ تیز رفتار، ماحول دوست اور اسمارٹ مصنوعات دنیا بھر کے صارفین میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ گرمیوں میں ٹھنڈک پہنچانے والے ایئر کنڈیشنرز سے لے کر رنگا رنگ تہواروں کی مصنوعات تک، چین عالمی منڈی کی طلب کو تیزی سے سمجھنے اور مختلف ممالک کے عوام کی توقعات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین کی مصنوعات صرف تیز رفتار فراہمی تک محدود نہیں بلکہ ماحول دوست بھی ہیں۔ نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں، لیتھیم بیٹریاں اور شمسی توانائی سیلز جیسے “نئے تین نمایاں شعبے” مختلف ممالک کو زیادہ ماحول دوست مصنوعات فراہم کر رہے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے عملی حل بھی پیش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ “اسمارٹ” بھی اب چین میں تیار ہونے والی مصنوعات کی نئی شناخت بن چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور اختراعی ادویات پر مشتمل “نیو نیو ٹریو”لوگوں کو زیادہ آسان، جدید اور ذہین طرزِ زندگی فراہم کر رہے ہیں۔

چین صرف دنیا کو اپنی مصنوعات برآمد ہی نہیں کر رہا بلکہ دنیا سے مصنوعات درآمد بھی کر رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق چین مسلسل 17 برس سے دنیا کی دوسری بڑی درآمدی مارکیٹ چلا آ رہا ہے۔ چین نے 63 ممالک کے لیے صفر ٹیرف کی پالیسی نافذ کر رکھی ہے اور چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو، کنزیومر ایکسپو، اور سپلائی چین ایکسپو جیسے عالمی تجارتی میلوں کے انعقاد کے ذریعے دنیا بھر کی معیاری مصنوعات کو چینی منڈی تک رسائی فراہم کر رہا ہے۔ اپنے کھلے پن میں مسلسل اضافے کے ذریعے چین دنیا کے ساتھ اپنی وسیع مارکیٹ، مکمل صنعتی نظام اور بھرپور انسانی وسائل جیسے فوائد بھی شیئر کر رہا ہے۔

چین کی ان مسلسل کوششوں کو عالمی سطح پر بھی وسیع پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ اس کا سب سے نمایاں ثبوت یہ ہے کہ چین آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ “چائنا ٹریول” اور ” چائنا میکسنگ ” جیسے ہیش ٹیگز بیرون ملک سوشل میڈیا پر مقبول ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ایئر کنڈیشنرز، نئی توانائی کی گاڑیاں اور روبوٹک ویکیوم کلینرز جیسی چینی مصنوعات بھی عالمی منڈیوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ امریکی تحقیقی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی حالیہ رپورٹ بھی اس کی تصدیق کرتی ہے کہ متعدد ممالک کے عوام میں چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ کے مقابلے میں زیادہ دیکھی گئی، جبکہ پہلے سے زیادہ افراد چین کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار تصور کرتے ہیں۔

بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر سے لے کر گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کو آگے بڑھانے تک، چین مسلسل تعاون، مشترکہ کامیابی اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ یہ نہ صرف چین کا مستقل مؤقف ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک مشترکہ اتفاق رائے بننا چاہیے۔ اسی صورت میں اختلافات پر قابو پا کر دنیا ایک زیادہ جامع، سب کے لیے فائدہ مند اور مشترکہ ترقی پر مبنی مستقبل کی جانب پیش قدمی کر سکتی ہے۔