چائنا

سی پی سی کی بیسویں مرکزی کمیٹی کا پانچواں کل رکنی اجلاس پارٹی میں سخت نظم و ضبط سے بہتر حکمرانی کے عزم اور اعتماد کو ظاہر کرتا ہے، بین الاقوامی شخصیات

بیجنگ (نیوز ڈیسک) بین الاقوامی شخصیات کا کہنا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں مرکزی کمیٹی کے پانچویں کل رکنی اجلاس نے سی پی سی کے سخت نظمو ضبط سے حکمرانی کرنے کے عزم اور اعتماد کو ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق، سی پی سی میں جاری خود اصلاحی کا عمل ایک جرات مندانہ قدم ہے، جو حکومتی صلاحیت کو بڑھا رہا ہے، چینی عوام کا اعتماد اور حمایت حاصل کر رہا ہے، اور ملک کی مسلسل ترقی کو یقینی بنارہا ہے۔

نیپال کے سابق وزیراعظم جھالا ناتھ کھنال نے کہا کہ یہ تاریخی طور پر ایک اہم اجلاس ہے، جو نہ صرف سی پی سی کی ترقی کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے بلکہ دنیا کی دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے بھی حکمرانی کا تجربہ پیش کرتا ہے۔ مصر کی سوشلسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری احمد شعبان کا کہنا ہے کہ صدر شی جن پھنگ ہمیشہ عوام کو دل میں رکھتے ہیں اور سی پی سی ہمیشہ عوام کو مرکز میں رکھتی ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ یہی کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مسلسل کامیابی کی بنیاد ہے۔

روس کے سینٹر فار ایشیا پیسفک اسٹڈیز کے ڈائریکٹر سر گئی ساناکوئیف نے کہا کہ اس اجلاس کے اعلامیے میں پارٹی میں جامع اور سخت نظم و ضبط سے بہتر حکمرانی کا غیر متزلزل عزم اور یہ سوچ کہ اصلاحات کا آغاز اپنے اندر سے کیا جائے، سی پی سی کی خود اصلاحی کے عمل کی روح کو ظاہر کرتے ہیں۔ امریکہ کی رابرٹ مورس یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر مورٹی کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کے اعلامیے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ سخت نظم و ضبط سی پی سی کے اندر اتحاد اور مضبوط بنیاد کو یقینی بناتا ہے، اور یہ چین کے نئے پانچ سالہ منصوبے کے اہداف کو حاصل کرنے اور زیادہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضمانت فراہم کرتا ہے۔