بیجنگ (نمائندہ خصوصی) امریکہ میں تعینات چین کے سفیر شی فنگ نے فلاڈیلفیا میں منعقدہ ورلڈ ٹریڈ سینٹرز ایسوسی ایشن کے 56ویں عالمی تجارتی فورم کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور کلیدی خطاب کیا۔ چین-امریکہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کا تحفظ ایک فطری حق ہے، مگر اسے حد سے بڑھانا اور ہر معاملے پر لاگو کرنا درست نہیں اور نہ ہی “قومی سلامتی” کو ایک ڈبے کی مانند ہر چیز ڈالنے کا ذریعہ بنانا چاہیے۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “چینی لہسن نے تو خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ ایک دن اسے امریکہ میں’ قومی سلامتی کے خطرے ‘کے طور پر دیکھا جائے گا۔”
سفیر شی فنگ نے امریکی قومی سلامتی کے بیانیے کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ چینی الیکٹرک گاڑیوں کو “پہیوں والا ڈیٹا کلیکٹر” قرار دے کر بدنام کیا گیا، چینی کرینوں پر بلا وجہ “جاسوسی آلہ” رکھنے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، اور اب ایک سادہ، خوشبو بڑھانے اور ذائقہ بہتر بنانے والا چینی لہسن بھی “قومی سلامتی کے خطرے” کا لیبل لے بیٹھا ہے۔ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ صحت بخش خوراک، امریکی سیاست دانوں کی نظر میں “خطرہ” بن گئی ہے،یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے۔
اس تضاد میں ایک خاص طنز پوشیدہ ہے۔ ایک طرف امریکی سیاستدان چینی لہسن کو بدنام کرتے ہیں، دوسری طرف وہ اسی پر انحصار بھی کرتے ہیں۔چین دنیا کا سب سے بڑا لہسن برآمد کنندہ ہے، امریکہ کی مقامی لہسن کی پیداوار اندرونی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے، اور چینی لہسن اپنے معیار اور کم قیمت کی بنیاد پر امریکی منڈی کے نصف حصے پر قابض ہے۔سیدھی بات یہ ہے کہ امریکی سیاست دانوں کی “فکر” چینی لہسن کے صحت کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ چینی لہسن بہت سستا اور معیاری ہے، جو مقامی صنعت کے لئے ” خطرہ ” بن رہا ہے۔” قومی سلامتی” محض تجارتی تحفظ کا بہانہ ہے۔
صحیح معنوں میں امریکی دوہرے معیار کے اصول کے مطابق، امریکی سیاست دان “قومی سلامتی” کے پیمانے سے چینی مصنوعات میں عیب تلاش کرتے ہیں، لیکن اپنی جابرانہ منطق پر مبہم بات کرتے ہیں۔ اگر اسی منطق کو آگے بڑھایا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ اگر چینی لہسن خطرہ ہے تو پھر چین سے درآمد کردہ نایاب معدنیات ، کیا یہ زیادہ خطرناک “ٹائم بم” نہیں؟امریکہ جو چین کو بڑی مقدار میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویابین برآمد کرتا ہے، مگر وہاں “خوراک کی سلامتی کا خطرہ” کیوں نہیں اٹھایا جاتا؟ ہالی وڈ کی فلمیں امریکی اقدار کو دنیا بھر میں پھیلاتی ہیں، مگر اسے “ثقافتی سلامتی کا خطرہ” کیوں نہیں کہا جاتا؟
سفیر شی فنگ کا خطاب ہر زاویے سے درست نشانے پر تھا, امریکہ کی “قومی سلامتی” کبھی حقیقی سلامتی نہیں رہی، بلکہ “امریکہ فرسٹ” کی بالادستی کا ایک آلہ ہے.امریکی سیاست دانوں کی “فکر” کبھی حقیقی فکر نہیں، دراصل چین کے مضبوط ہونے کے خوف کا اظہار ہے ۔ اس طرح کے بے بنیاد الزامات نہ صرف عالمی پیداوار اور عالمی سپلائی چین کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ بالآخر خود امریکہ کے لیے بھی مسائل پیدا کرتے ہیں۔
چینی لہسن پر پابندی سے امریکی ریستوران صنعت اور عام صارفین متاثر ہوں گے، جس سے امریکہ میں قیمتیں بڑھیں گی، چینی مصنوعات کی مخالفت سے عالمی تعاون کی بنیادیں کمزور ہوں گی۔انٹرنیٹ پر ایک کہاوت گردش کر رہی ہے”Garlic is the ketchup of the intelligent”، یعنی لہسن سمجھدار لوگوں کی پسندیدہ چٹنی ہے۔واقعی، عقلمند لوگ لہسن کی قدر جانتے ہیں اور زندگی کے خوبصورت پہلوؤں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جبکہ امریکی سیاست دان ایک عام خوراک کو بدنام کرنے میں اپنی توانائی ضائع کر رہے ہیں، اس کے پیچھے بالادستی کا غرور، دوہرے معیار کی منافقت اور نااہلی کی بے چینی کارفرما ہے۔
لہسن زندگی کو بہتر بنانے والی ایک عام خوراک ہے، جو دنیا بھر کے لوگوں میں صحت بخش اور لذیذ سمجھی جاتی ہے، لیکن امریکی سیاست دانوں نے اسے چین کی ترقی کو روکنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جس سے ایک مضحکہ خیز سیاسی تماشے نے جنم لیا۔ یہ تماشا آخرکار ختم ہو جائے گا، اصولوں کا احترام، مساوی تعاون ہی باہمی فائدے اور بقا کی ضمانت ہے۔آخر میں امریکی سیاست دانوں کے نام پیغام:” Life is too short to avoid garlic” زندگی مختصر ہے، لہسن غنیمت ہے ، آخر بلاوجہ پریشانی کیوں مول لیں؟