چین

جاپان جارحیت اور عسکری توسیع کے اپنے جرائم پر بات کرنے سے گریز کرتا رہا ہے، چینی وزارت خارجہ

بیجنگ (نیوز ڈیسک) جاپانی وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی کے چین سے متعلق حالیہ بیانات پر چین کی تنقید کے جواب میں، جاپانی وزارت دفاع کے ترجمان نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چین نے “بارہا ایسے دعوے کیے ہیں جو حقائق سے متصادم ہیں۔” وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ جاپان جارحیت اور عسکری توسیع کے اپنے جرائم اور اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں پر بات کرنے سے گریز کرتا رہا ہے۔

جاپان اپنی تاریخ پر گہرائی سے غور کرنے میں ناکام رہا ہے بلکہ یہ سمندر پار فوجیوں کی تعیناتی کے جواز کے لیے “کلیکٹیو سیلف ڈیفنس” کے تصور کا استعمال کرتا ہے، جارحانہ عسکری قوتوں میں اضافے کو ” جوابی حملے کی صلاحیتوں کو فروغ دینے” کے تصورکے طور پر استعمال کرتا ہے اور مہلک ہتھیاروں کی برآمد کو چھپانے کے لیے “سامان اور ٹیکنالوجی کے تعاون” کا تصور استعمال کرتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ تصورات کو تبدیل کرکے جاپان نہ صرف اپنے عوام بلکہ بین الاقوامی برادری کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار جھوٹ نہیں بولتے، اور الفاظ کا ہیر پھیر جاپان کی حقیقی عسکری توسیع کی کوششوں کو نہیں چھپا سکتا۔ جاپان جتنا زیادہ اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرے گا، عالمی برادری کو اتنا ہی چوکنا رہنا چاہیے۔