اسلام آ باد (نیوز ڈیسک) عالمی یومِ کتاب کے موقع پر چائنا میڈیا گروپ اور ادارہ فروغِ قومی زبان کے باہمی اشتراک سے ایک پروقار اور بامقصد تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کی مناسبت سے ثقافتی ہم آہنگی، علمی تبادلوں اور کتاب دوستی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی۔
جمعرات کے روز تقریب میں دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات، باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔تقریب میں قلم کاروں، محققین، اساتذہ، تھنک ٹینکس کے نمائندگان اور سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی، جس سے اس علمی نشست کی اہمیت اور افادیت مزید اجاگر ہوئی۔
اس موقع پر صدرِ مجلس، پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن فرح ناز اکبر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کتاب انسان کی بہترین رہنما اور فکری تربیت کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک چین سدا بہار دوستی کو کتابوں اور علمی سرگرمیوں کے ذریعے نوجوان نسل تک مؤثر انداز میں منتقل کیا جا سکتا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں اس تاریخی رشتے کی اہمیت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی سینیٹر مشاہد حسین سید نے اپنے خطاب میں پاک چین تعلقات کی سات دہائیوں پر محیط کامیاب اور تعاون پر مبنی داستان کو نہایت بلیغ انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو اس تاریخی دوستی سے سبق سیکھنے اور اسے مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔
ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغِ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے ادبی و ثقافتی روابط کے فروغ کو پاک چین دوستی کو مزید گہرا کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا اور اس حوالے سے نہایت بصیرت افروز تجاویز پیش کیں۔صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ پاک چین تعلقات ہر شعبے میں مثالی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے درمیان علمی مکالمے اور باہمی روابط کو مزید فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین کے تجربات سے سیکھ کر پاکستان ترقی کے نئے مواقع حاصل کر سکتا ہے۔
ممتاز ماہرِ معاشیات بلال جنجوعہ نے کہا کہ پاک چین تعاون میں مزید وسعت کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے چین کی تیز رفتار اور پائیدار ترقی کو ایک عملی نمونہ قرار دیتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو تعاون کے مختلف پلیٹ فارمز سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔
معروف ماہرِ تعلیم اور سی پیک کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر حسان داؤد بٹ نے چینی صدر شی جن پھنگ کے عالمی وژن اور اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام کے درمیان باہمی احترام، شراکت داری اور ثقافتی ہم آہنگی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی ترقی کا ماڈل طویل المدتی منصوبہ بندی اور تسلسل کا عملی مظہر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک چین تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تعلیمی، تحقیقی اور ثقافتی روابط کو وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انچارج چائنا سٹڈی سنٹر، کامسیٹس یونیورسٹی، سعدیہ حیدر نے کہا کہ تعلیمی میدان میں پاک چین تعاون نہایت حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی طلبہ بڑی تعداد میں چینی جامعات میں اعلیٰ تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول میں مصروف ہیں، جو مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
معروف ٹی وی آرٹسٹ و صحافی ربیکا عبدل نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین میں ان کا صحافتی قیام ترقی، نظم و ضبط اور قومی وابستگی کا ایک منفرد اور متاثر کن تجربہ رہا، جہاں قیادت اور عوام کے درمیان ہم آہنگی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔تقریب کے اختتام پر مقررین نے مختلف اہم اور معلوماتی کتب کا حوالہ دیتے ہوئے چین کی ترقی، قیادت کی دور اندیشی اور پائیدار پالیسیوں کو اجاگر کیا۔ اس علمی نشست نے نہ صرف کتاب دوستی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا بلکہ چین اور پاکستان کے درمیان فکری، ثقافتی اور تعلیمی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی نئی راہیں بھی روشن کیں۔