چین اور تاجکستان

چین اور تاجکستان ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کرنے والے اچھے پڑوسی ہیں، چینی صدر

بیجنگ (نیوز ڈیسک) چینی صدر شی جن پھنگ نے چین کے سرکاری دورے پر آئے ہوئے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں بات چیت کی۔

منگل کے روز شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ چاہے عالمی حالات میں کتنی ہی تبدیلیاں رونما کیوں نہ ہوں، چین اور تاجکستان ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کرنے والے اچھے پڑوسی، قابل اعتماد اور پرخلوص اچھے دوست اورایک ساتھ ترقی کرنے والے اچھے شراکت دار رہیں گے۔ شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین ہمیشہ کی طرح اپنے قومی حالات کے مطابق ترقی کی راہ پر گامزن ہونے میں تاجکستان کی مدد کرے گا اور اپنی قومی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ میں تاجکستان کی حمایت کرے گا۔ فریقین کو اپنے متعلقہ ترقیاتی اہداف کے حصول میں مدد کے لیے ایک دوسرے کی ترقیاتی حکمت عملیوں کو گہرائی سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ چین بین الاقوامی تنظیم برائے مصالحت میں تاجکستان کی شمولیت کا خیرمقدم کرتا ہے اور اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور چین وسطی ایشیا میکانزم کے فریم ورک کے تحت تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے تاکہ ایک زیادہ منصفانہ اور معقول گلوبل گورننس سسٹم کی تعمیر کو فروغ دیا جا سکے۔

تاجک صدر امام علی رحمان نے کہا کہ تائیوان چین کا اٹوٹ حصہ ہے، اور تاجکستان ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے عمل پیرا ہے۔ تاجکستان اہم معدنیات، مصنوعی ذہانت اور تکنیکی جدت سمیت اہم شعبوں میں چین کے ساتھ عملی تعاون کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے تاکہ دوطرفہ تعلقات کی وسیع تر ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ صدر شی جن پھنگ کا گلوبل گورننس انیشی ایٹو دنیا کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ تاجکستان اہم بین الاقوامی مسائل کو سیاسی طور پر حل کرنے میں چین کی مسلسل کوششوں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے میں اس کے اہم کردار کو سراہتا ہے۔
بات چیت کے بعد، دونوں سربراہان مملکت نے مستقل خوشگوار ہمسائیگی، دوستی اور تعاون کے معاہدے اور مشترکہ بیان پر دستخط کیے اور ان کا اجراء کیا۔ دونوں صدور نے سیاسی جماعتوں کے تبادلوں، تجارت اور سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت، سبز کان کنی، اور میڈیا کے شعبوں میں تعاون کی دس سے زائد دستاویزات پر دستخط کا مشاہدہ کیا۔ اس دورے کے دوران زراعت، ثقافت، تعلیم، رہائشی تعمیرات، معائنہ اور قرنطینہ، اور مارکیٹ کی نگرانی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کی دس سے زائد دستاویزات پر بھی دستخط کیے گئے۔

اسی دن چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ اور چین کی قومی عوامی کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین چاؤ لہ جی نے بھی تاجکستان کے صدر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔