بیجنگ (نیوز ڈیسک) چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے یومیہ پریس بریفنگ میں گزشتہ روز ہانگ کانگ میں منعقدہ ساؤتھ چائنا سی سیکیورٹی راؤنڈ ٹیبل ڈائیلاگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد “بحیرۂ جنوبی چین ثالثی مقدمہ” دراصل قانونی معاملے کی آڑ میں رچایا گیا ایک سیاسی ڈراما ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں دیا گیا غیر قانونی “ثالثی فیصلہ” اس تاریخی اور قانونی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا کہ چین کو بحیرۂ جنوبی چین کے جزائر اور ان سے ملحقہ پانیوں پر خودمختاری، خودمختار حقوق اور دائرۂ اختیار حاصل ہے۔ یہ غیر قانونی فیصلہ نہ تو اپنی خودمختاری اور سمندری حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے چین کے عزم کو متزلزل کر سکتا ہے،
اور نہ ہی متعلقہ ممالک کے ساتھ بات چیت اور مشاورت کے ذریعے تنازعات کے حل سے متعلق چین کی پالیسی اور مؤقف کو متاثر کر سکتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ چین خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر بحیرۂ جنوبی چین میں امن و استحکام کے تحفظ اور علاقائی خوشحالی و ترقی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔