بیجنگ (نیوز ڈیسک) کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں “شی جن پھنگ: دی گورننس آف چائنا” کی پانچویں جلدکے حوالے سے کتابوں کے تبادلے سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اس موقع پر چین اور تاجکستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے چینی طرز کی جدیدیت اور چین-تاجکستان تعلقات سمیت متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔
تاجکستان میں چین کے سفیر گو زی جون نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “شی جن پھنگ: دی گورننس آف چائنا” کی پانچویں جلد نہ صرف چین کے ترقیاتی تجربات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ قومی حکمرانی، سماجی ترقی، عوامی فلاح اور بین الاقوامی تعاون جیسے اہم موضوعات پر بھی جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سابق سیکرٹری جنرل راشد علیموف نے کہا کہ اس کتاب میں پیش کیے گئے نظریات صرف فکری سطح تک محدود نہیں بلکہ چین کی ترقی کے عملی سفر میں بھی اپنی افادیت ثابت کر چکے ہیں۔دوشنبے سے تعلق رکھنے والی یونیورسٹی کی طالبہ نریموتینوفا ، جو جلد ہی شنگھائی میں تعلیم حاصل کرنے جا رہی ہیں، نے کہا کہ “شی جن پھنگ: دی گورننس آف چائنا” کی پانچویں جلد تعاون اور مشترکہ ترقی کے تصورات کو فروغ دیتی ہے، اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ تمام ممالک جیت جیت اور باہمی فائدےکے لیے مل کر کام کریں۔