لاہور، 12 نومبر:(زاہد انجم سے) پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج و لاہور جنرل ہسپتال، پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے کہا ہے کہ ذیابطیس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک سنگین قومی مسئلہ ہے۔ خون کے ایک قطرے سے ذیابطیس کی بروقت تشخیص ممکن ہے، جبکہ تاخیر سے علاج پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اس مرض سے بچاؤ کے لیے ہمیں اپنے طرزِ زندگی میں فوری تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ ذیابطیس 2025 کا موضوع“ذیابطیس کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی کیجیے”اس بات کی یاد دہانی ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش ہی اس مرض کے خلاف مؤثر ہتھیار ہیں۔ ان کے مطابق فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات اور غیر متوازن غذائی عادات ذیابطیس کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے عوامی شعور ناگزیر ہے۔
پروفیسر فاروق افضل نے ان خیالات کا اظہار عالمی یومِ ذیابطیس کے موقع پر لاہور جنرل ہسپتال میں منعقدہ آگاہی لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر شہریوں میں ذیابطیس سے بچاؤ اور علاج کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے ماہرینِ طب نے مفید رہنمائی فراہم کی۔تقریب سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین، اسسٹنٹ پروفیسر میڈیسن ڈاکٹر محمد مقصود، گائناکالوجسٹ ڈاکٹر لیلیٰ شفیق اور ڈاکٹر انعم بتول نے بھی خطاب کیا۔
ایم ایس جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے کہا کہ بچوں میں ذیابطیس کا بڑھتا ہوا رجحان لمحہ فکریہ ہے۔ جدید طرزِ زندگی، موبائل اور ٹی وی کے بے جا استعمال نے نئی نسل کو غیر فعال بنا دیا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی غذا میں توازن اور جسمانی سرگرمیوں میں تسلسل پیدا کریں۔اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد مقصود نے کہا کہ انسولین ذیابطیس کے علاج کا بنیادی ستون ہے، اور اس کے درست استعمال سے مریض دل، گردوں، نظر اور اعصاب کی پیچیدگیوں سے بچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذیابطیس کے مریضوں کو باقاعدگی سے شوگر چیک کرنی چاہیے، متوازن غذا اور روزانہ ورزش کو معمول بنانا چاہیے۔
گائناکالوجسٹ ڈاکٹر لیلیٰ شفیق نے کہا کہ خواتین خصوصاً دورانِ حمل بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کے باقاعدہ ٹیسٹ کروائیں، کیونکہ گیسٹیشنل ذیابطیس ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ حاملہ خواتین کو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق غذا اور طرزِ زندگی اپنانا چاہیے۔ڈاکٹر انعم بتول نے کہا کہ والدین کو بچوں میں ذیابطیس کی علامات، جیسے بار بار پیاس لگنا، زیادہ پیشاب آنا، وزن میں کمی یا تھکن کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل پروفیسر فاروق افضل نے کہا کہ بین الاقوامی ذیابطیس فیڈریشن (IDF) کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 589 ملین افراد ذیابطیس میں مبتلا ہیں، اور 2045 تک یہ تعداد 853 ملین تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ پاکستان میں ذیابطیس کی شرح عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہے، جہاں بالغ آبادی کا تقریباً 31.4 فیصد (یعنی 3 کروڑ 45 لاکھ افراد) اس بیماری میں مبتلا ہیں، جبکہ بڑی تعداد کو ابھی تک تشخیص نہیں ہو سکی۔انہوں نے کہا کہ ذیابطیس کا پھیلاؤ صرف طبی نہیں بلکہ سماجی و معاشی مسئلہ بھی ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے طبی ماہرین، تعلیمی ادارے، میڈیا اور عوام کو مل کر آگاہی، ابتدائی تشخیص اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔تقریب کے اختتام پر شرکاء میں آگاہی پمفلٹس تقسیم کیے گئے جن پر صحت مند طرزِ زندگی اپنانے، باقاعدہ ورزش کرنے اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کے پیغامات درج تھے۔
٭٭٭٭٭