تائیوان

چین کا طرز جمہوریت قومی گورننس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے ، برطانوی مبصر

بیجنگ (عکس آن لائن) برطانوی مصنف اور سیاسی مبصر کارلوس مارٹینیز کے مطابق ہمیشہ کی طرح اس سال بھی دو اجلاسوں کے ذریعے کیے گئے فیصلے چینی عوام کے خیالات اور توقعات کی عکاسی کریں گے۔ چین کے دو اجلاس قانون کی حکمرانی پر مبنی سوشلسٹ جمہوریت کی ایک شاندار مثال ہیں۔

کوئی ملک جمہوری ہے یا نہیں، اس کی کلید یہی ہے کہ عوام ملک کے حکمران ہیں۔ چین کی حکمران جماعت کا “ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت” کا تصور قومی گورننس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے جس میں انتخابات، مشاورت، فیصلہ سازی، انتظام اور نگرانی وغیرہ شامل ہیں۔

چین نے اپنے جمہوری نظام کے ذریعے
فیصلہ سازی کے عمل میں تمام شعبہ ہائے زندگی اور نچلی سطح کو بھی نمائندگی دی ہے۔

کسی ملک کی جمہوریت اچھی ہے یا نہیں، اُس ملک کے عوام یہ فیصلہ کرنے میں حق بجانب ہیں۔ رواں سال جنوری میں، دنیا کی سب سے بڑی پبلک ریلیشن کنسلٹنگ فرم، ایڈلمین کے جاری کردہ گلوبل ٹرسٹ بیرومیٹر رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 میں چینی عوام کی اپنی حکومت پر اعتماد کی شرح 91 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو دنیا میں پہلے نمبر پر ہے اور گزشتہ دس سالوں میں نئی بلندی تک پہنچ گئی ہے ۔یہ چینی جمہوریت کی مضبوط قوت کا حقیقی عکاس ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں