آئی ایم ایف

پاور سیکٹر کا 1.27 ٹریلین قرض ادائیگی، آئی ایم ایف سے منظوری کی ہدایت

اسلام آباد( عکس آن لائن) پاور سیکٹر کا 1.27 ٹریلین قرض ادائیگی کیلیے آئی ایم ایف سے منظوری کی ہدایت کردی گئی۔

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے ہدایت کی ہے کہ توانائی کے شعبے کے 1.27 ٹریلین روپے کے غیر ادا شدہ قرض کی کلیئرنس کے مجوزہ منصوبے کی فوری طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے منظوری حاصل کی جائے جس کا مقصد اس قرض کو ختم کرنے کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے سے بچنا ہے۔

اگر گردشی قرضے کی لاگت صارفین پر ڈالی جاتی ہے تو بجلی کی قیمتیں 24 روپے بڑھ کر 66 روپے فی یونٹ تک پہنچ جائیں گی۔ اسی طرح گیس کی قیمتوں میں 5,800 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ ہو جائے گا جو موجودہ قیمتوں کے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ وزارت توانائی نے قیمتوں میں اضافہ کیے بغیر اور بجٹ پر کوئی اثر ڈالے بغیر قرضوں کا تصفیہ کرنے کی تجویز دی ہے۔

وزارت خزانہ اور وزارت توانائی کو آئی ایم ایف سے فوری منظوری حاصل کرنے کی ہدایات ایس آئی ایف سی کے 9ویں اجلاس کے دوران دی گئیں۔ یہ الیکشن سے قبل اس باڈی کا آخری اجلاس تھا۔ وزارت خزانہ کو اس منصوبے کی جلد منظوری کے لیے آئی ایم ایف کی جانب رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ نومبر 2023 تک توانائی کے شعبے کا کل گردشی قرضہ 5.725 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں پاور سیکٹر کا 2.7اور گیس سیکٹر کا 3ٹریلین روپے کا قرضہ شامل ہے۔

ایس آئی ایف سی کو بتایا گیا ہے کہ مجوزہ 1.27 ٹریلین روپے کے سرکلر ڈیٹ ریٹائرمنٹ پلان کا نہ تو بجٹ پر کوئی مالی اثر پڑے گا اور نہ ہی اس سے گیس اور بجلی کے صارفین پر قرض کی وصولی کے لیے زیادہ قیمتوں کا بوجھ پڑے گا۔

ماضی میں پاور سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ یا تو بجٹ کے ذریعے طے کیا جاتا تھا یا پھر صارفین کو توانائی کے شعبے کی کمیوں کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ بجلی صارفین اب بھی پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ پر سود کی ادائیگی کیلئے 3.23 روپے فی یونٹ ادا کر رہے ہیں۔کابینہ کے ایک رکن نے بتایا کہ اس معاملے کو بہتر نہ بنایا گیا تو گیس کے شعبہ میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

ایک سینئر حکومتی عہدیدار کے مطابق موجودہ مہنگائی کے دباؤ کو دیکھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ کو مزید قیمتوں میں اضافے کی صورت میں صارفین پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ قیمتوں میں اضافے کے ذریعے قرض اتارنے کی ناکام حکمت عملی کو ختم نہ کیا گیا تو اگلے پروگرام کے مذاکرات کے وقت یہ ایک بڑی رکاوٹ بن جائے گی۔ پیٹرولیم سیکٹر کا گردشی قرضہ بھی بڑھ رہا ہے۔

پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں صرف 17 فیصد اضافے کے مقابلے میں گیس سیکٹر کا غیر ادا شدہ قرض ساڑھے تین سال سے بھی کم عرصے میں دوگنا ہو کر 3 ٹریلین روپے سے بڑھ گیا ہے۔ یہ رجحان ملک کے معاشی استحکام کے لیے ایک اور نیا خطرہ بن گیا ہے۔ جون 2020 میں گیس کے شعبے کا قرضہ 1.5 ٹریلین روپے تھا جو نومبر 2023 تک مزید 1.5 ٹریلین روپے ہوگیا ہے۔ وزارت توانائی صرف دو دنوں کے لیے 745 بلین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ مانگ رہی ہے۔ ن

گران حکومت کی جانب سے اگلی منتخب حکومت کو کنٹرول سونپنے سے پہلے آئی ایم ایف کی توثیق اور اس پر عمل درآمد بہت ضروری ہے کیونکہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ اگلی منتخب حکومت اس منصوبے پر عمل درآمد کرے گی۔ ایس آئی ایف سی کو جمع کرائے گئے منصوبے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ منصوبہ عمل میں لائے جانے کے بعد گیس سیکٹر کا قرضہ 3 ٹریلین روپے سے کم ہو کر 2 ٹریلین روپے تک آ جائے گا۔ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2.5 ٹریلین روپے رہ جائے گا۔

وزارت توانائی نے گردشی قرضے کو حل کرنے کے لیے سات درجاتی منصوبہ تجویز کیا ہے ۔ اس منصوبے سے بجٹ پر کوئی اثر نہ پڑے گا۔ اس منصوبے کے تحت 1027ارب روپے قرض میں سے 556 ارب روپے کی رقم او جی ڈی سی ایل کے ذمہ میں چلی جائے گی۔ دوسری سب سے زیادہ رقم 168 ارب روپے گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ کو ادا کرنا ہوگی۔

نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی کو 146 ارب روپے ، پاکستان سٹیٹ آئل کو 29 ارب روپے ، پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ لمیٹڈ کو 82.7 بلین روپے ،ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں کو 386 ارب ادا کرنا ہونگے۔ ایس این جی پی ایل کے واجبات کی مد میں 126 ارب روپے پی پی ایل، 10 ارب روپے جی ایچ پی ایل اور 250 ارب روپے او جی ڈی سی ایل کے حصے میں چلے جائیں گے۔ ای اینڈ پی کمپنیوں کو ایس ایس جی سی اس قرض میں سے 259 ارب روپے منتقل کرے گی۔

او جی ڈی سی یل کے نجی شیئر ہولڈرز 59.5 ارب اور پی پی ایل کے پرائیویٹ شیئر ہولڈرز 23.8ارب روپے وصول کریں گے۔ سی پی پی اے کو 146روپے حصے میں آئیں گے۔ تاہم پی پی ایل میں حکومت کے شیئرز 75 فیصد ہیں۔ او جی ڈی سی ایل میں 85فیصد ہیں،پی ایس او میں 25فیصد ہیں۔ توقع ہے کہ او جی ڈی سی ایل 467ارب روپے شیئر ہولڈرز میں تقسیم کرے گی جس میں سے 397ارب روپے حکومت کے حصے میں آئیں گے۔

ماضی کے قرضوں کے تصفیے کے بغیر وزارت خزانہ اپنے مستقبل کے منافع وصول نہیں کر سکے گی۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف صارفین کو قیمتوں میں مزید اضافے سے بچانے کے لیے اقدامات کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں