وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری

مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد پالیسی نا بدلنا ہماری غلطی تھی،وزیر خارجہ

اسلام آ باد (نمائندہ عکس)وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت اب سیکولر ملک نہیں رہا ، مسئلہ کشمیر ہر پاکستانی کیلئے بہت اہم ہے، امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات میں بھی یہ معاملہ اٹھایا، یہ مسلم دشمن ملک بنتا جارہا ہے ، کشمیر میں حلقہ بندیوں کے ذریعے مسلمانوں کی اکثریت کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، یسین ملک کی گرفتاری غیر قانونی ہے، ہم جب کشمیر کا معاملہ اٹھاتے ہیں تو جواب میں لاپتہ افراد کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے، مشعال ملک کو سفارتی پاسپورٹ فراہم کرنے پر کام ہو رہا ہے، مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد پالیسی نا بدلنا ہماری غلطی تھی ۔ تفصیلات کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کا اجلاس ہوا جبکہ اجلاس کی صدارت فاروق ایچ نائیک نے کی۔

اجلاس میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور یسین ملک کی اہلیہ مشال ملک بھی شریک ہوئے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب سے کشمیر پر 5 اگست 2019 کا حملہ ہوا ہے تمام جماعتیں اکٹھی ہیں کیونکہ مسئلہ کشمیر ہر پاکستانی کیلئے بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات میں بھی یہ معاملہ اٹھایا جبکہ ہم نے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں معاملہ اٹھایا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقاتوں میں بھی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا البتہ بھارت اب سیکولر ملک نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں جو اسلامو فوبک بیانات دئیے گئے ، اسلاموفوبک مذمتی بیانات کو بھی ہم نے عالمی سطح پر اٹھایا ۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تاثر جارہا ہے کہ یہ مسلم دشمن ملک بنتا جارہا ہے جبکہ کشمیر میں حلقہ بندیوں کے ذریعے مسلمانوں کی اکثریت کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یسین ملک کی گرفتاری غیر قانونی ہے، ہم جب کشمیر کا معاملہ اٹھاتے ہیں تو جواب میں لاپتہ افراد کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مشعال ملک کو سفارتی پاسپورٹ فراہم کرنے پر کام ہو رہا ہے جبکہ ان کو سیکیورٹی کی فراہمی کیلیے وزارت داخلہ سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری غلطی تھی کہ جب مودی وزیر اعظم بنا تو ہم نے پالیسی نہیں بدلی ، ہم یہی سمجھے کہ مودی بھی واجپائی اور دیگر بھارتی وزرا اعظم جیسا آدمی ہے ۔ وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم سمجھے تھے کہ مودی اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان سے تعلقات بہتر بنائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں