ترشاوہ پھلوں

ملک میں ترشاوہ پھلوں کی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ ہو رہاہے، سٹرس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ

فیصل آباد (عکس آن لائن ):فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، وہاڑی، خانیوال، ساہیوال، لیہ، بھلوال، منڈی بہا الدین، سرگودھامیں سٹرس فروٹ کی کاشت کے رقبہ میں بتدریج اضافہ ہونے لگاہے جبکہ سٹرس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے بغیر و کم بیج والے مالٹے، سنگترے، گریپ فروٹ، لیمن، لائمز کی کئی نئی اقسام بھی متعارف کروا دی ہیں اور ترشاوہ پھلوں کو وسیع البنیاد کرنے میں اپنااہم کردارادا کیاہے جس کے باعث ملک میں ترشاوہ پھلوں کی کاشت اور پیداوار میں بھی خاطرخواہ اضافہ ہو رہاہے۔سٹرس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ترجمان نے بتایاکہ گزشتہ سال پنجاب میں 4لاکھ 51 ہزار ایکڑ رقبہ پر ترشاوہ پھل کاشت کئے گئے جہاں سے 20لاکھ 47ہزار ٹن پیداوار حاصل ہوئی۔

انہوں نے بتایاکہ دنیا بھر میں 140ممالک ترشاوہ پھل پیدا کررہے ہیں جن کی 20ویں صدی کے آغاز میں پیداوار صرف ایک ملین ٹن تھی جو اب ایک بلین ٹن سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ سطح زمین سے تقریبا 2500فٹ بلندی تک پھلوں کی پیداوار ممکن ہے جبکہ ترشاوہ پھلوں کیلئے موزوں ترین درجہ حرارت 25سے 35 سینٹی گریڈ تک ہے تاہم یہ40سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت کو برداشت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ مالٹے کی بہت سی بغیر بیج اور کم بیج والی اقسام یعنی سلیٹیانہ، مارس ارلی اور ٹراکووبلڈ ریڈ شمالی پنجاب کے علاقہ جات میں کاشت کی جاسکتی ہیں نیز مارس ارلی مالٹا جوکہ واشنگٹن نیول کی متغیرہ شاخ سے معرض وجود میں آیا اس نے پیداوار اور پھل کی خاصیت کے لحاظ سے وسطی و شمالی پنجاب میں اچھے نتائج دیئے ہیں کیونکہ اس میں سردی و گرمی دونوں قسم کی آب و ہوا کو برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالٹا ویلینشیالیٹ میں بھی گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے تاہم ایسے علاقے جہاں دن اور رات کے درجہ حرارت میں فرق زیادہ ہو وہاں مالٹا و یلینشیالیٹ میں مقدار جوس بہتر رہتی ہے۔انہوں نے بتایاکہ ترشاوہ پھلوں میں شمبر، ریڈ بلش گریپ فروٹ کو گرم علاقوں میں نہایت کامیابی سے کاشت کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ بغیر بیج والے گریپ فروٹس کی نہایت اعلی اقسام ہیں جبکہ سٹار روبی گریپ فروٹ ٹھنڈے علاقہ جات یعنی شمالی پنجاب میں اچھے نتائج دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں