وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ

لاپتہ کیس ،کچھ ایسی حقیقتیں ہیں جو اوپن کورٹ میں بیان نہیں ہوسکتیں، رانا ثنا اللہ

اسلام آباد (نمائندہ عکس) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے لاپتہ افراد کے معاملے کہاہے کہ کچھ ایسی حقیقتیں ہیں جو اوپن کورٹ میں بیان نہیں ہوسکتیں۔ ہائی کورٹ میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جہاں تک اس کیس کا معاملہ ہے اس سے زیادہ دکھی انسانیت کی خدمت کہیں نہیں ہوسکتی، آپ لوگوں کے عزیزوں اور پیاروں کو غائب کرکے لاپتہ کردیں، چیف جسٹس نے جس طرح اس معاملے پر زور دیا اس سے لوگو کو پہلے بھی ریلیف ملا ہے، حکومتی کوششوں سے بھی لوگوں کو ریلیف ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ایسی حقیقتیں ہیں جو اوپن کورٹ میں بیان نہیں ہوسکتیں، مسئلے کے حل کے لیے مدد اس صورت ہوسکتی ہے اگر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ان کیمرہ سماعت کریںاس دوران صحافی نے سوال کیا کہ عمران خان کہتے ہیں جیل جا کر اور خطرناک ہو جاں گا، رانا ثنا اللہ نے جواب دیا کہ یہ صرف کرنے کی باتیں ہیں جب جیل گیا لگ سمجھ جائے گی، ویسے جیل جانے کا موسم گزر رہا ہے جولائی اگست میں بھیجنا چاہیے تھا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ پندرہ بیس سال پرانا مسئلہ ہے، کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے، کمیٹی 3 زاویوں سے اس مسئلے کو دیکھ رہی ہے، میں کمیٹی کے کام میں مداخلت کروں تو زیادتی ہوگی، سنجیدہ معاملہ ہے اس سے متعلق آپ لوگوں سے بھی بات کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں