او آئی سی

فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں انسانیت کے خلاف جرم ہیں،او آئی سی

جدہ(عکس آن لائن)اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کے سکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہ نے زوردے کر کہا ہے کہ نام نہاد اسرائیلی ریاست کو بے لگام چھوڑنے سے اسے فلسطینیوں کیخلاف جرائم پر قائم رہنے کا موقع دیا گیا ۔ صہیونی ریاست کے جرائم پر خاموشی نے فلسطینیوں پر مظالم میں اضافہ کیا ہے۔ اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف اقدامات انسانیت کے خلاف جرائم میں شامل ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے حال ہی میں فلسطین کے شہر نابلس میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی اور اس واقعے کی عالمی سطح پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا کہ اسرائیلی ریاست کے انسانیت کیخلاف جرائم پر اس کو کٹہرے میں لایا جائے۔یہ بات اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے فلسطین اور القدس الشریف سمیر بکر دیاب نے جدہ میں تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ غیر معمولی اجلاس کے دوران او آئی سی کے سیکٹری جنرل کے نائب کیطور پر کہی۔اجلاس میں نابلس شہر اور فلسطینی ریاست کی پوری سرزمین پر اسرائیلی جارحیت میں اضافے کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کے نتیجے میں حال ہی میں 11 فلسطینی شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون واضح اور ناقابل تقسیم ہے۔ اسرائیل اپنے جرائم اور خلاف ورزیوں پرہٹ دھرمی کے ساتھ قائم ہے۔ وہ عالمی برادری کی آنکھوں کے سامنے فلسطینی سرزمین میں اپنی نوآبادیاتی آباد کاری کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل کھلے عام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے اور جنیوا کنونشنز اور اقوام متحدہ کی قرارداوں کو پامال کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ریاست کے جرائم پرعالمی خاموشی صہیونی ریاست کی جرائم کیتسلسل میں اس کی حوصلہ افزائی کررہی ہے جب کہ فلسطینیوں کو کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔تنظیم کے سکریٹری جنرل نے نابلس، اس سے قبل اریحا اور جنین شہروں میں رونما ہونے والے گھنانے جرائم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں اسرائیلی فوج کے نہ ختم ہونے والے جرائم کا تسلسل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں