چین

جی سیون کا تائیوان سے متعلق بیان کاغذ کا ایک بےکار ٹکڑا ہے،چین

بیجنگ (عکس آن لائن) چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پنہ میں چین-آسیان وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کی۔ جمعہ کے روز چائنا میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وانگ ای نے کہا کہ جی سیون ممالک نے آبنائے تائیوان کی موجودہ صورتحال پر ایک نام نہاد “بیان” جاری کیا۔ چین اس “بیان” کی سختی سے مخالفت کرتا ہے کیونکہ یہ صحیح اور غلط کو الجھاتا ہے، سیاہ اور سفیدکو خلط ملط کرتا ہے اور کھلی خلاف ورزی کرنے والوں کی حمایت کرتا ہے جب کہ حقوق کے محافظوں پر دباؤ ڈالتا ہے۔مسلمہ حقیقت کہاں ہے؟ بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصول کہاں ہیں؟”اندرونی معاملات میں عدم مداخلت” ہماری دنیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کا سب سے بنیادی اصول ہے۔ ہم مختلف ممالک کے تعلقات پر جنگل کے قانون کو دوبارہ حاوی نہیں ہونے دے سکتے۔ یہ نام نہاد “بیان” صرف کاغذ کا ایک بےکار ٹکڑا ہے۔

وانگ ای نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ 100 سے زائد ممالک نے آگے بڑھ کر اپنے موقف کا اظہار کیا ہے۔وہ ایک چین کےاصول پر کاربند ہیں، اپنے اقتدار اعلی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں چین کی حمایت کرتے ہیں اور چین کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی بیان جاری کیا ہے ، سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریز اور ان کے ترجمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ ،قرارداد نمبر 2758 پر عمل پیرا رہے گی۔ قرارداد 2758 کا بنیادی حصہ ایک چین کا اصول ہے اور تائیوان چین کا حصہ ہے۔ یقیناً یہ عالمی برادری کی مشترکہ آواز ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں