تخفیف غربت

تخفیف غربت کے لحاظ سے دنیا میں چین کی شراکت کا تناسب سترفیصد سے زائد ہے، رپورٹ

بیجنگ (عکس آن لائن) سترہ اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا تیسواں بین الاقوامی دن منایا گیا جو چین میں غربت زدہ افراد کی امداد کا نواں قومی دن بھی تھا۔بدھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چینی صدر شی جن پھنگ نے سی پی سی کی بیسویں قومی کانگریس کی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں چین میں تاریخی اہمیت کے حامل تین واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں غربت کا خاتمہ بھی شامل ہے۔چین کے قومی شماریات بیورو کی جاری کردہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصلاحات و کھلے پن پر عمل درآمد کے بعد تخفیف غربت کے لحاظ سے دنیا میں چین کی شراکت کا تناسب سترفیصد سے زائد ہے۔مطلق غربت کے خاتمے سے چین نے عالمی انسداد غربت کے لیے اپنی قوت ڈالی ہے،قیمتی تجربات فراہم کیے ہیں اور امید کی کرن بھی لائی ہے۔

غربت کا خاتمہ ،ترقی کا فروغ اور بنیادی طور پر عوامی زندگی میں بہتری ،چینی حکومت اور حکمراں پارٹی کا ہدف رہا ہے۔دہائیوں سے جاری اس عمل میں چین نے اپنی صورتحال کے مطابق کافی قیمتی تجربات حاصل کیے ہیں اور دوسرے ممالک کے ساتھ مثبت انداز میں تبادلے کیے ہیں۔اپریل دو ہزار اکیس میں چین نے “بنی نوع انسان کے انسداد غربت کا چینی تجربہ ” کے عنوان سے وائٹ پیپر جاری کیا جس میں چین کے تجربات پر روشنی ڈالی گئی ،ان میں عوام کو ترجیح دینا،انسداد غربت کو گورننس میں نمایاں اہمیت دینا،حقیقی صورتحال کے مطابق ترقی کو فروغ دینے سے غربت کا خاتمہ ،غربت کا شکار عوام کے مرکزی کردار کو بروئے کار لانا،مختلف طبقات کی اجتماعی قوت کو شامل کرنا وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔

ان میں سب سے اہم بات یہی ہے کہ چین کی حکمراں پارٹی ہمیشہ سے عوام کو ترجیح دیتی آ رہی ہے۔سال دو ہزار چودہ میں چین نے سترہ اکتوبر کو غریبوں کی امداد کا قومی دن قرار دیا ،یہ معاشرے کے مختلف طبقات کو غربت کے خاتمے میں شامل کرنے کا ایک اہم نظام ہے اور غربت کے خاتمے ،عوامی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے چینی حکومت کے عزم کا براہ راست عکاس ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئتریس نے سال 2021 میں غربت کے خاتمے میں چین کے حاصل کردہ تاریخی ثمرات پر ارسال کردہ تہنیتی خط میں یہ خیال ظاہر کیا کہ انسداد غربت میں چین کی حاصل کردہ کامیابیوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کا عزم اور پالیسی کا تسلسل کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔جب کہ یو این کی نائب سیکرٹری جنرل آمینہ محمد نے حال ہی میں چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ تعلیم کو فروغ دینا غربت کے خاتمے کا کلیدی عنصر ہے اور اس حوالے سے چین کا تجربہ قابل تقلید ہے۔

غربت نہ صرف پسماندہ ممالک کی معاشی و معاشرتی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے بلکہ علاقائی تصادم،دہشت گردی اور ماحولیاتی بگاڑ جیسے مسائل کا ایک اہم سبب ہے۔موسمیاتی تبدیلی،کووڈ۔۱۹ کی وبا اور روس۔یوکرین تصادم کے اثرات کے باعث مختلف ممالک کے عوام کو توانائی اور خوراک کی قلت،بلند افراط زر جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو پسماندہ ممالک میں مزید نمایاں نظر آ رہے ہیں۔یو این سیکرٹری جنرل گوئتریس نے سترہ تاریخ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ “آج جب ہم غربت کے خاتمے کا بین الاقوامی دن منا رہے ہیں،ہمیں ایک سنجیدہ حقیقت کا سامنا ہے :دنیا پیچھے کی جانب جا رہی ہے۔”انہوں نے امن،سائنس اور اتحاد کے ذریعے غربت کے خاتمے میں منفی رجحانات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ردعمل کی اپیل کی۔اس حوالے سے چین کے فعال اقدامات کا تسلسل جاری ہے جن میں عالمی ترقیاتی انیشیٹیو پیش کرنا ،بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر کو فروغ دینا،غربت کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی عوامی تعاون کا نیٹ ورک قائم کرنا اور شراکت داروں کے اتحاد کی تشکیل کو فروغ دینا شامل ہیں۔ انسداد غربت کے عمل میں چین نے اپنی خصوصیات کے مطابق درست راستہ تلاش کر لیا ہے ۔آئندہ چیلنجوں اور مواقع کے پیش نظر ہمیں یقین ہے کہ مختلف ممالک بھی اپنی راہ کی تلاش میں کامیاب ہو جائیں گے اور اپنے عوام کے لیے مزید خوشحال زندگی لائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں